Yulia Ki Neend (2)
یولیا اچانک چھری تانے میری طرف بڑھی، میں ڈرامائی انداز میں جست لگا کر کھڑکی کے قریب جا کھڑا ہوا "لوگو، بچاؤ! یولیا میری عزت لوٹنے آ رہی ہے"۔ ہم سب کے پھر سے قہقہے بلند ہوئے۔ ہاہاہاہا۔
یولیا ہنستی ہنستی فرش پر بیٹھ گئی "میں نے تب ہی خطرے کی بُو محسوس کر لی تھی جب تم چاروں آپس میں پنجابی میں مشورہ کر رہے تھے"۔
افتی نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ اسے حوصلہ دیا "ڈرو مت یولیا! ہم اچھے لوگ ہیں، بس تمہیں تنگ کر رہے تھے"۔
یولیا چھری ہوا میں گھماتے بولی "ہاں، بہت اچھے لوگ، مجھے لگ رہا ہے کہ اگر آج رات میں سوئی تو صبح میری ہڈیاں ہی ملیں گی"۔ اس کی معصومیت پر ہماری ہنسی رکنے کا نام نہ لے، کمرے میں دیر تک قہقہے گونجے، یولیا بھی اب ہماری شرارتوں کی عادی ہو چکی تھی، جذبہ خیر سگالی کے طور پر اس نے سب سے ہاتھ ملایا، پھر ہنستے ہوئے مصنوعی فکرمندی سے بولی "لیکن ڈر کے مارے مجھے اب نیند نہیں آئے گی"۔
رانا کاشف نے فوراً لقمہ دیا، "وہ تمہارا مسئلہ ہے"۔ اس پر سب ہنس پڑے۔
یولیا بولی "قسم سے، اب مجھے ڈر لگنے لگا ہے کہ کہیں یہ چار مشٹنڈے میرا تیا پانچہ نہ کر دیں"۔
خرم چوہدری چادر میں منہ چھپائے بولا، "دوستو، یولیا بہت خوبصورت ہے اور کم سن بھی"۔
یولیا نے آنکھیں دکھاتے ہوئے جھٹ سے اسے ڈانٹا، "تم چُپ رہو، انہیں میری طرف راغب مت کرو"۔
علی سہیل نے موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور جملہ کسا، "یارو، اتنی خوبصورت لڑکی رات گئے تک اکیلی جاگتی اچھی نہیں لگتی"۔
یولیا نے غصیلی نظروں سے........
