India Dubuk Gaya Hai
اروندھتی رائے پھر بولی ہے اور جب اروندھتی بولتی ہے تو زبان نہیں، آتش فشاں پھٹتا ہے۔ مگر یہ بے قابو آتش فشاں نہیں۔ یہ وہ لاوا ہے جو برسوں سے اندر پک رہا تھا۔ ہر لفظ تولا ہوا۔ ہر جملہ نشانے پر۔
چار لفظ اور چار لفظوں میں پوری جنگ کا خلاصہ۔
اروندھتی کہتی ہے کہ تہران، اصفہان، بیروت جل رہے ہیں۔ وہی پرانے قاتل ہیں۔ وہی پرانا طریقہ۔ عورتیں مار دو۔ بچے مار دو۔ ہسپتال بم سے اڑا دو۔ شہر ملبے میں بدل دو۔ پھر شکار بن کر کھڑے ہو جاؤ۔ غزہ میں یہی کیا۔ ایران میں یہی کر رہے ہیں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار آگ سنبھالے نہیں سنبھل رہی۔ اس جنگ کا تھیٹر پھیل سکتا ہے۔ پوری دنیا کو نگل سکتا ہے۔ ایٹمی تباہی کا سایہ سر پر ہے۔ وہی ملک جس نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر بم گرایا تھا، دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کو مٹانے کی تیاری کر رہا........
