menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sumali Afghanistan Mein Taliban Ke Khilaf Mazahmat Mein Shiddat

19 0
29.07.2026

شمالی افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمت میں شدت

چار دن قبل یعنی پچیس جولائی کی صبح کابل سے ایک فوجی قافلہ شمالی افغانستان کی طرف روانہ ہوا۔ اس میں کمک بھی تھی اور اسلحہ بھی، منزل بدخشاں تھی۔ قافلہ سالنگ سے ہوتا ہوا بغلان کے ضلع دوشی میں داخل ہوا تو اس پر پہاڑوں سے راکٹوں کی بارش ہوئی، خاصا نقصان ہوا، کئی اموات بھی۔ ہمارے میڈیا میں یہ خبر زیادہ توجہ نہ پاسکی حالانکہ اس ایک واقعے میں تین باتیں چھپی ہوئی ہیں۔ پہلی، طالبان کو بدخشاں کے لیے کابل سے کمک بھیجنی پڑ رہی ہے۔ دوسری، وہ کمک اپنے ہی ملک کے اندر محفوظ نہیں۔ تیسری، حملہ سرحد پار سے نہیں ہوا بلکہ خود افغانستان کے اندر ہی یہ لڑائی چل رہی ہے۔

شمالی افغانستان کا اہم صوبہ بدخشاں آج کل لڑائیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ تئیس جولائی جمعرات کی شام ضلع زیبک میں لڑائی چھڑی جو ان سطور کے لکھے جانے تک جاری ہے۔ افغانستان فریڈم فرنٹ کا دعویٰ ہے کہ اس نے کئی محاذوں سے حملہ کرکے اکیس طالبان مارے اور سینتیس زخمی کیے اور سرحدی چوکی کے گرد بلندیوں سے طالبان کو پیچھے دھکیل دیا۔ ان تنظیموں کے دعووں میں مبالغہ ہوسکتا ہے مگر دعووں کو تقویت طالبان کا اپنا ردعمل بھی دیتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ افغان طالبان نے وہاں ہیلی کاپٹروں سے کمانڈو اتارے، درائم، زیبک اور یفتلِ پائیں (زیریں) میں مزید فوج بھیجی گئی۔ ظاہر ہے فوجی دستے وہاں نہیں بھیجے جاتے جہاں سب ٹھیک ہو۔

یہ معاملہ سترہ جولائی سے شروع ہوا جب ایک نئے گروہ "سپاہیانِ میہن" نے یفتلِ پائیں کے ضلعی مرکز، پولیس ہیڈکوارٹر اور طالبان انٹیلی جنس کے دفتر پر قبضہ کیا، طالبان اہلکاروں........

© Daily Urdu