Dehshat Gardon Ke Khilaf Operation, Riyasat Ko Kya Karna Chahiye?
سوال ایک ہی ہے کہ کیا دہشت گرد قوتوں کے خلاف آپریشن ہونا چاہیے یا پھر سکیورٹی ادارے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں؟ اس کا جواب آسان ہی ہے۔ ہمارے پڑوس میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے بعد تو فیصلہ کرنا مشکل نہیں رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے جو حالات بن چکے ہیں، جس طرح دہشت گردقوتیں ہم پر حملہ آور ہیں اور اگر ان کا مناسب اور بروقت سدباب نہ کیا گیا تو کم وبیش وہی نقشہ مستقبل میں ابھر سکتا ہے جو ہم نے ایران کے بعض شہروں میں دیکھا۔
بی بی سی اردو پر ایک تازہ رپورٹ دیکھی جس میں انہوں نے ایران سے واپس آنے والے پاکستانیوں سے بات چیت کی۔ ان سب کا یہ کہنا تھا کہ یہ مظاہرے تعداد کے اعتبار سے تو اتنے زیادہ نہیں، مگر ان میں خوفناک قسم کی شدت اور سخت دلی موجود تھی۔ اس رپورٹ میں ایک اہم بات کی نشاندہی کی گئی جو کہ ایک عینی شائد نے بتائی۔ اس نے بتایا کہ مظاہرین کے پاس ایم فور رائفلیں تھی اور وہ واکی ٹاکی پر بات کررہے تھے، یہ لوگ ایرانی موبائل نیٹ ورک استعمال نہیں کر رہے تھے۔ یہی رائفلیں فائرنگ کے لئے استعمال ہوتی رہیں۔ ان سب لوگوں نے اپنے چہرے رومالوں سے ڈھانپے ہوئے تھے۔
صرف اس ایک رپورٹ کاتجزیہ کرکے سمجھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ان عوامی مظاہروں کو غیر ملکی ایجنٹوں، دہشت گردوں نے ہائی جیک کیا، ورنہ عام شہریوں کے پاس کیسے یہ رائفلیں آ گئیں، سیٹلائٹ فونز آ گئے؟ یاد رہے کہ یہ پاکستانی قبائلی علاقوں کی نہیں، ایران کی بات ہو رہی ہے جہاں طویل عرصے سے اسلحہ رکھنا سختی سے منع ہے، فوری گرفتاری ہوجاتی ہے۔
دراصل یہی ففتھ جنریشن وار فیئر ہے۔ پہلے سوشل میڈیا، ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے غلط خبریں پھیلائو۔........
