Agartala Se Balochistan: Purani Ghalti Nahi Dohrni Chahiye
اگرتلہ سے بلوچستان: پرانی غلطی نہیں دہرانی چاہیے
آج کل ایک کتاب "ان سائیڈ را" پڑھ رہا ہوں۔ پورا نام ہے "ان سائیڈ را، دی سٹوری آف انڈیا سیکرٹ سروس۔ " معروف بھارتی انویسٹی گیٹو صحافی آشوک رائنا اس کے مصنف ہیں۔ یہ کتاب انیس سو اکیاسی میں شائع ہوئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را پر لکھی گئی یہ سب سے مستند اور معروف کتاب سمجھی جاتی ہے۔ آشوک رائنا ایک سنجیدہ اور اچھی ساکھ رکھنے والے بھارتی انویسٹی گیٹو جرنلسٹ ہیں جو انڈیا ٹو ڈے جیسے بڑے جریدے سے طویل عرصہ منسلک رہے۔ آج کل بھی انہیں بطور ایکسپرٹ را اور دیگر ایجنسیوں کے معاملات پر مدعو کیا جاتا ہے۔
اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں را کے بہت سے آپریشنز کے بارے میں پہلی بار اعتراف کیا گیا۔ را کا اندرونی سٹرکچر، کیسے یہ قائم ہوئی، کن کن مراحل سے گزری اور پھر بعد میں مرار جی ڈیسائی دور میں اسے کس طرح کی مشکلات سے گزرنا پڑا وغیرہ، یہ سب چیزیں اس کتاب کو پڑھنے سے سمجھ آتی ہیں۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ بھارت میں یہ مانا جاتا ہے کہ آشوک رائنا کو اس کتاب کے لئے مواد وغیرہ را کے بانی اور پہلے سربراہ آر این کاو نے فراہم کئے۔
دراصل اندرا گاندھی کے بعد اپوزیشن اتحاد کے مرار جی ڈیسائی وزیراعظم بنے۔ ان کا خیال تھا کہ را نے اندراگاندھی کے لئے کام کیا تھا، اسی وجہ سے انہوں نے را کا کردار گھٹا دیا، آر این کاو کو را سے نکال دیا وغیرہ۔ شائد اسی لئے آر این کاو نے یہ کتاب لکھنے میں مدد فراہم کی ہوگی تاکہ بھارتی عوام کو بھی پتہ چلے کہ را نے کیا........
