menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Afghanistan Strikes: Pakistan Ke Pas Yei Chaara Tha

88 5
23.02.2026

افغانستان سٹرائیکس: پاکستان کے پاس یہی چارہ تھا

پاکستان کا افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو سرجیکل سٹرائیکس کے ذریعے نشانہ بنانا بہت اہم ہے کہ اس سے پورے خطے کا منظرنامہ ہی بدل سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ننگرہار کے علاقہ کامی اور پکتیکا کے ضلع برمل میں دہشت گردوں کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں بعض ٹی ٹی پی کمانڈروں اور دہشت گردوں کے مرنے کی اطلاعات ہیں۔ افغان طالبان البتہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ سویلین ہلاکتیں بھی ہوئیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ جن علاقوں میں یہ دعویٰ کر رہے ہیں، وہاں ائیر سٹرائیکس کی اطلاعات ہی نہیں۔

قابل اعتماد ذرائع کے مطابق پاکستان نے ننگر ہار صوبے میں جلال آباد کے قریب ضلع کامی اور بشمول دیگر علاقوں میں دو سے تین کیمپس (ٹی ٹی پی اور آئی ایس کے پی کے ٹریننگ سینٹرز) تباہ کیے۔ جبکہ پکتیکا صوبہ میں ضلع برمل کے پہاڑی علاقوں میں کم از کم چار ٹھکانے، جن میں عمر میڈیا سینٹر، خودکش ٹریننگ کیمپس اور ٹی ٹی پی کمانڈروں کے ٹھکانے شامل تھے۔ برمل ضلع دراصل پاکستانی سرحد کے ساتھ ملتا ہے۔ برمل کے علاقہ لمان میں حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانے بھی موجود ہیں۔ یہی گروپ ہے جس نے شمالی وزیرستان میں سب سے زیادہ دہشت گرد حملے کئے ہیں۔ پاکستانی حملے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تھے جو سرحد کے ساتھ "سلیکٹو ٹارگٹنگ" پر مبنی تھے، مگر افغان دعوؤں میں اضافی مقامات (جیسے خوست یا کنڑ) کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم انٹرنیشنل میڈیا بھی انہیں کنفرم نہیں کر پایا۔

پکتیکا کے ضلع برمل میں دو سال پہلے بھی ائیر سٹرائیکس کئے گئے........

© Daily Urdu