menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Malakwal Se New York Tak (3)

30 0
06.10.2026

ملکوال سے نیویارک تک (3)

دنیا کے ہر بڑے شہر کا ایک دروازہ ہوتا ہے، ایک ایسی دہلیز جہاں سے لاکھوں خواب ہر روز اس شہر میں داخل ہوتے ہیں۔ نیویارک کے لیے یہ دروازہ جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (JFK) ہے۔ یہ محض ایک ہوائی اڈہ نہیں، بلکہ دنیا بھر کی بے شمار ثقافتوں، زبانوں، رنگوں اور خوابوں کا ایک حسین سنگم ہے۔ جب جہاز بادلوں کو چیرتا ہوا نیویارک کی فضاؤں میں داخل ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ JFK انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے پر اترتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا کے اس مشہور شہر نے اپنی بانہیں پھیلا کر آپ کا استقبال کیا ہو۔ میں بھی چونکہ پہلی مرتبہ امریکہ آ رہا تھا، اس لیے امریکہ سے میری پہلی ملاقات اسی تاریخی ہوائی اڈے پر ہوئی۔ امیگریشن کاؤنٹر پر آفیسر نے مجھ سے چند سوالات کیے: "آپ امریکہ کیوں آئے ہیں؟ یہاں کتنے دن قیام کریں گے؟ کہاں ٹھہریں گے؟ اور پاکستان میں کیا کرتے ہیں؟" میں نے ایک ایک سوال کا جواب دیا۔ آفیسر نے میرے پاسپورٹ پر مہر لگائی، مسکراتے ہوئے پاسپورٹ میری طرف بڑھایا اور کہا: "Enjoy the vacation"یہ چند الفاظ میرے لیے جیسے امریکہ میں خوش آمدید کا پہلا پیغام تھے۔

JFK ایئرپورٹ کے وسیع و عریض ٹرمینلز، دنیا بھر سے آنے والے مسافروں کا ہجوم، مختلف زبانوں کی گونج اور جدید سفری سہولیات نے پہلی ہی نظر میں دل موہ لیا۔ اس لمحے مجھے شدت سے احساس ہوا کہ میں واقعی دنیا کے اس شہر میں قدم رکھ چکا ہوں جسے مدتوں سے "خوابوں کا شہر" کہا جاتا ہے۔ اس عظیم ہوائی اڈے کی اپنی ایک دلچسپ تاریخ بھی ہے۔ 1940ء کی دہائی میں نیویارک کا لاگارڈیا ایئرپورٹ بڑھتی ہوئی فضائی آمد و رفت کے باعث ناکافی ثابت ہونے لگا۔ چنانچہ کوئنز کے علاقے میں جمیکا بے کے قریب ایک نئے اور بڑے ہوائی اڈے کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کی تعمیر کا آغاز 1943ء میں ہوا اور یکم جولائی 1948ء کو اسے نیو یارک انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نام سے عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ چونکہ یہ ہوائی اڈہ ایک سابقہ گولف کورس، آئیڈل وائلڈ، کی زمین پر تعمیر کیا گیا تھا، اس لیے ابتدا میں اسے عام طور پر آئیڈل وائلڈ ایئرپورٹ کہا جاتا تھا۔ بعد ازاں 22 نومبر 1963ء کو امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے المناک قتل کے بعد، ان کی یاد میں 24 دسمبر 1963ء کو اس ہوائی اڈے کا نام تبدیل کرکے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ رکھ دیا گیا۔ آج دنیا بھر میں یہ مختصر نام JFK ہی سے پہچانا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ہوائی اڈہ جدید فضائی سفر کی ایک اہم علامت بن گیا۔ آج یہاں جدید ٹرمینلز، وسیع رن ویز، ایئر ٹرین، عالمی معیار کے ریستوران، ڈیوٹی فری شاپس اور مسافروں کے لیے بے شمار جدید سہولیات موجود ہیں۔ ہر سال دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں مسافر یہاں سے گزرتے ہیں اور مختلف سمتوں میں اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ JFK ایئرپورٹ کی سب سے خوبصورت بات شاید یہ ہے کہ یہاں کھڑے ہوکر انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری دنیا ایک ہی جگہ سمٹ آئی ہو۔ مختلف رنگ، مختلف نسلیں، مختلف زبانیں، مختلف لباس اور مختلف ثقافتیں، مگر سب کے قدم کسی نہ کسی نئی منزل کی طرف رواں دواں۔ ان دنوں امریکہ میں فیفا ورلڈ کپ کے میچز بھی جاری تھے، اس لیے JFK ایئرپورٹ پر دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے فٹ بال کے شائقین کی رونق بھی نمایاں تھی۔ ہر طرف مختلف ملکوں کے جھنڈے، مختلف زبانوں کی آوازیں اور فٹ بال سے جڑے جوش و خروش........

© Daily Urdu