menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Har Baar Aurat He Kyun?

30 0
15.06.2026

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں جب بھی کوئی سانحہ جنم لیتا ہے تو سب سے پہلے سوال مجرم سے نہیں، متاثرہ فرد سے پوچھا جاتا ہے؟ جب کوئی لڑکی گھر سے تعلیم حاصل کرنے نکلتی ہے اور راستے میں درندگی کا شکار ہو جاتی ہے تو بحث اس کی حفاظت پر نہیں بلکہ اس کے گھر سے نکلنے پر شروع ہو جاتی ہے۔ جب کسی عورت پر تیزاب پھینکا جاتا ہے تو لوگ اس کے چہرے کی جھلسی ہوئی جلد سے زیادہ اس کی زندگی کے انتخابوں کا پوسٹ مارٹم کرنے لگتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس سرزمین پر جرم کرنے والوں سے زیادہ سخت عدالت ان لوگوں کے لیے قائم ہے جو جرم کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آخر ہم کس قسم کا معاشرہ تعمیر کر چکے ہیں جہاں مظلوم اپنے زخموں کے ساتھ ساتھ اپنی صفائیاں بھی پیش کرنے پر مجبور ہو؟

حالیہ برسوں میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ہماری اجتماعی ناکامی کا نوحہ ہیں۔ سترہ سالہ طالبہ کا اغوا اور زیادتی کا واقعہ ہو یا ڈاکٹر ماہ نور پر مبینہ تیزاب گردی، یہ واقعات کسی ایک خاندان یا ایک شہر کا المیہ نہیں بلکہ پورے سماج کے ضمیر پر ثبت ہونے والے وہ سیاہ دھبے ہیں جنہیں محض مذمتی بیانات سے نہیں دھویا جا سکتا۔ ہر واقعہ ایک سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہےکہ کیا ہم واقعی ایک مہذب معاشرے میں رہتے ہیں یا صرف مہذب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں؟

عجیب بات ہے کہ ہم نے تہذیب کو عمارتوں، سڑکوں اور ٹیکنالوجی سے ناپنا سیکھ لیا ہے، مگر انسانیت کے پیمانے بھلا دیے ہیں۔ ایک شہر میں فلائی اوورز کی تعداد بڑھ جائے تو ہم ترقی کا جشن مناتے ہیں، لیکن اگر اسی شہر میں عورت خوف کے بغیر سفر نہ کر سکے تو کیا اسے ترقی کہا جا سکتا ہے؟ ایک قوم اس وقت ترقی یافتہ نہیں کہلاتی جب اس کی ظاہری ترقی آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہو، بلکہ اس وقت کہلاتی ہے جب اس کی بیٹیاں محفوظ ہوں۔ افسوس کہ روشنیوں سے بھرے شہروں میں سوچیں اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہیں۔

قانون کی کتابیں الماریوں میں سجی ہوئی ہیں، دفعات موجود ہیں، سزائیں بھی لکھی جا چکی ہیں، مگر مسئلہ قانون کی عدم موجودگی نہیں بلکہ قانون کے اثر کے فقدان کا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے انصاف ایک ایسی گاڑی بن چکا ہے جس کے پہیے صرف........

© Daily Urdu