menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Reham o Hamdardi Insan Ki Asal Azmat

21 0
24.05.2026

رحم و ہمدردی انسان کی اصل عظمت

ہمدردی شاید انسان کے اندر پیدا ہونے والی سب سے نایاب اور مقدس کیفیت ہے۔ یہ صرف خوش اخلاقی یا نرم مزاجی کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی باطنی روشنی ہے جو انسان کو دوسرے انسان کے دکھ سے جوڑ دیتی ہے۔ یہ وہ احساس ہے جس میں آدمی صرف کسی کے زخم کو دیکھتا نہیں، بلکہ اُس کی ٹیس کو اپنے اندر محسوس کرنے لگتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ احساس آسودگی سے نہیں، بلکہ ٹوٹنے سے جنم لیتا ہے۔ جب انسان خود زندگی کے ہاتھوں زخمی ہوتا ہے، تب اُسے دوسروں کے زخم دکھائی دینے لگتے ہیں۔

مولانا جلال الدین رومی نے کہا تھا: "زخم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی تمہارے اندر داخل ہوتی ہے"۔

شاید اسی لیے جن لوگوں نے غم دیکھا ہو، اُن کے دل دوسروں کے لیے زیادہ نرم ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ دکھ انسان کے اندر ایک ایسی خاموش دراڑ پیدا کر دیتا ہے جہاں سے دوسروں کے درد کی آواز سنائی دینے لگتی ہے۔ ایک ایسا شخص جو خود اندھیروں سے گزرا ہو، وہ جانتا ہے کہ روشنی کی کتنی اہمیت ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ دوسروں کے ہاتھ میں چراغ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

Fyodor Dostoevsky نے لکھا تھا: "ہمدردی انسان کے وجود کا سب سے اہم اور شاید واحد قانون ہے"۔

واقعی اگر انسان کے اندر دوسروں کے لیے درد محسوس کرنے کی صلاحیت باقی نہ رہے، تو علم، طاقت، دولت اور کامیابی سب بےمعنی ہو جاتے ہیں۔ ایک بےحس ذہین انسان شاید دنیا کے لیے مفید ہو، مگر خوبصورت نہیں۔ کیونکہ اصل........

© Daily Urdu