menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qanoon, Taqat Aur Insani Waqar

29 0
28.06.2026

قانون، طاقت اور انسانی وقار

کسی بھی معاشرے کی تہذیبی پختگی کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جاتا کہ وہ اپنے نیک اور فرمانبردار شہریوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے، بلکہ اس سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور، سب سے ناپسندیدہ اور حتیٰ کہ اپنے سب سے بڑے مجرم کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے۔ انصاف کا اصل امتحان عدالتوں میں نہیں بلکہ ان لمحات میں ہوتا ہے جب ریاست کے ہاتھ میں طاقت ہو اور اس کے سامنے ایک بے بس انسان کھڑا ہو۔

حال ہی میں لکسمبرگ کی ایک عدالت نے ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ ایک پولیس افسر نے زیرِ حراست شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ عدالت نے نہ صرف اس افسر کو سزا دی بلکہ اس کے ساتھیوں اور متعلقہ پولیس چیف کو بھی مجرم قرار دیا، کیونکہ انہوں نے یا تو جرم کو روکنے کی کوشش نہیں کی یا اسے چھپانے کی کوشش کی۔ اس فیصلے نے ایک بنیادی اصول کو دوبارہ واضح کیا: ریاستی اختیار رکھنے والا شخص اگر قانون توڑتا ہے تو اس کا جرم ایک عام شہری کے جرم سے زیادہ سنگین ہے، کیونکہ وہ عوام کے اعتماد کو بھی مجروح کرتا ہے۔

یہ واقعہ پاکستان سمیت ان تمام ممالک کے لیے ایک آئینہ ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات اور ان کے احتساب کے درمیان توازن کا مسئلہ موجود ہے۔

پاکستان میں "پولیس مقابلہ" ایک عام اصطلاح ہے۔ بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ لفظ ہمارے اجتماعی شعور کا حصہ بن چکا ہے۔ خبر آتی ہے کہ فلاں خطرناک ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا، فلاں اشتہاری مجرم فرار ہونے کی کوشش میں ہلاک ہوگیا، یا پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں مشتبہ افراد مارے گئے۔ اکثر لوگ اس خبر کو بہت ہی اطمینان کے ساتھ سنتے ہیں، گویا انصاف فوری طور پر فراہم کردیا گیا ہو۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا جرم کے خلاف جنگ میں ریاست کو قانون سے ماورا ہونے کا اختیار حاصل ہے؟

یہ سوال صرف قانونی نہیں بلکہ فلسفیانہ بھی ہے۔

ارسطو Aristotle نے دو ہزار سال پہلے........

© Daily Urdu