Pakistan Ka Mustaqbil, Imran Khan Aur Naojawan
پاکستان کا مستقبل، عمران خان اور نوجوان
پاکستان ایک نوجوان قوم ہے۔ ہماری آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی نوجوان پاکستان کی اصل طاقت، اس کا سرمایہ اور اس کے مستقبل کے معمار ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار صرف اس کی عمارتوں، سڑکوں یا معاشی اعداد و شمار پر نہیں ہوتا، بلکہ اس بات پر ہوتا ہے کہ اس ملک کی نوجوان نسل کتنی پُرامید، باصلاحیت، بااختیار اور اپنے مستقبل کے بارے میں پُراعتماد ہے۔ پاکستان کے نوجوان آج جس سیاسی اور قومی شعور کا اظہار کر رہے ہیں، اس میں عمران خان کی شخصیت اور قیادت ایک غیر معمولی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
عمران خان کی مقبولیت، خصوصاً نوجوانوں میں، محض ایک سیاسی وابستگی کا نام نہیں۔ بہت سے نوجوان انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں جس نے ان سے براہِ راست بات کی، ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا اور انہیں پاکستان کی تعمیر میں محض مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا بھی اہم کردار قرار دیا۔ ایک طویل عرصے تک نوجوانوں کو یہ احساس دلایا جاتا رہا کہ کامیابی کا واحد راستہ روایتی تعلیم حاصل کرنا اور پھر کسی ملازمت کی تلاش کرنا ہے۔ عمران خان کی قیادت میں نوجوانوں کے سامنے خود انحصاری، کاروبار، ہنرمندی، فری لانسنگ، ڈیجیٹل معیشت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عالمی سطح پر آگے بڑھنے کے امکانات کو زیادہ نمایاں انداز میں پیش کیا گیا۔
کامیاب جوان جیسے پروگرام اسی سوچ کی عکاسی کرتے تھے۔ مقصد صرف مالی معاونت فراہم کرنا نہیں تھا بلکہ نوجوانوں کو یہ باور کرانا تھا کہ وہ روزگار کے صرف متلاشی نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بھی بن سکتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کی تربیت، کاروبار کے لیے مواقع، قرضوں اور ہنرمندی کے پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو قومی معیشت کا فعال حصہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ کامیاب پاکستان جیسے اقدامات کے پیچھے بھی یہی تصور تھا کہ خاندانوں کو محض عارضی مالی سہارا دینے کے بجائے انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنایا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی سیاست کو سمجھنے کے لیے صرف روایتی سیاسی پیمانوں کو دیکھنا کافی نہیں۔ ان کی سب سے بڑی طاقت شاید یہ رہی کہ انہوں نے........
