menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pakistan Ka Digital Emergency Plan (1)

22 0
16.06.2026

پاکستان کا ڈیجیٹل ایمرجنسی پلان (1)

حال ہی میں میری نظر ایک دلچسپ تحریر سے گزری جس میں معروف پاکستانی کاروباری شخصیت ضیا چشتی صاحب (چشتی صاحب ائی ٹی انڈسٹری کے بہت کامیاب، مانی جانی شخصیت ہیں) کے ساتھ ہونے والی ایک گفتگو کا ذکر تھا۔ گفتگو کا محور ایک نہایت اہم سوال تھا: پاکستان اپنی آئی ٹی برآمدات میں اگلے دس ارب ڈالر کا اضافہ کیسے کر سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ضیا چشتی صاحب نے تین بنیادی نکات پیش کیے: صرف آؤٹ سورسنگ خدمات فراہم کرنے کے بجائے مصنوعات (Products) بنائی جائیں، کمپیوٹر سائنس کی تعلیم میں غیر معمولی وسعت پیدا کی جائے اور سرمایہ، ہنر اور سرمایہ کاری کی نقل و حرکت میں حائل ادارہ جاتی رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔

اس وژن میں بہت وزن ہے۔ پاکستان محض سستی افرادی قوت کے بل بوتے پر عالمی سطح پر کامیاب نہیں ہو سکتا۔ مستقبل ان ممالک کا ہے جو دانشورانہ ملکیت (Intellectual Property) کے مالک ہوں، اپنی مصنوعات تخلیق کریں اور عالمی سطح پر پہچانے جانے والے ٹیکنالوجی برانڈز قائم کریں۔ ایسٹونیا، فن لینڈ، آئرلینڈ اور اب ویتنام نے ثابت کیا ہے کہ نسبتاً کم آبادی رکھنے والے ممالک بھی اگر جدت، تحقیق اور مصنوعات پر توجہ دیں تو ٹیکنالوجی کی برآمدات میں حیران کن کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ ضیا چشتی صاحب کا یہ مؤقف بھی درست ہے کہ اگر پاکستان کو مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت میں مؤثر کردار ادا کرنا ہے تو ریاضی، منطق، کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت کی بنیادی تعلیم کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔

تاہم اس تحریر کو پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں ایک مختلف سوال پیدا ہوا۔ ہم دس سال بعد کیا حاصل کریں گے، اس پر تو گفتگو ہو رہی ہے، لیکن ہم آج کیا کر سکتے ہیں؟ نہ دس سال بعد، نہ تعلیمی اصلاحات کی ایک پوری نسل مکمل ہونے کے بعد، بلکہ اگلے بارہ سے چوبیس مہینوں میں پاکستان کیا اقدامات کر سکتا ہے تاکہ وہ اس تیزی سے پھیلتی ہوئی عالمی منڈی میں اپنا جائز حصہ حاصل کر سکے؟

میرے نزدیک اس سوال کا جواب واضح ہے۔

پاکستان کو فوری طور پر ایک قومی ڈیجیٹل اسکلز ایمرجنسی نافذ کرنی چاہیے۔

ہمارا مسئلہ صرف معاشی نہیں بلکہ آبادیاتی Demographic بھی ہے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے تعلیم یافتہ، ذہین اور محنتی ہوتے ہیں، مگر معیشت ان کے لیے مناسب مواقع پیدا نہیں کر پاتی۔........

© Daily Urdu