menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khwab Jo Lahore Mein Kahin Kho Gaya

20 0
09.06.2026

خواب جو لاہور میں کہیں کھو گیا

پاکستان کی سیاست میں ایک عجیب تضاد ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ جب ملک کوئی کامیابی حاصل کرے تو اسے "قومی کامیابی" کہا جاتا ہے، لیکن جب بحران پیدا ہو، ادارے کمزور ہوں، یا ریاستی سمت پر سوال اٹھیں تو نگاہیں فوراً پنجاب کی طرف مڑ جاتی ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آبادی، اقتدار، معیشت اور ریاستی ڈھانچے میں پنجاب کا وزن ہمیشہ دوسروں سے زیادہ رہا ہے۔ اس لیے پاکستان کی کہانی، چاہے اچھی ہو یا بری، پنجاب کے ذکرکے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔

مگر مسئلہ صرف طاقت کا نہیں، ذہنی سمت کا بھی ہے۔ بڑی اکثریت اگر وسعتِ نظر کے ساتھ نہ چلے تو وہ اعتماد کے بجائے ایک اجتماعی خود فریبی کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ اکبر الہ آبادی کا شعر جیسے آج بھی ہمارے سیاسی مزاج پر صادق آتا ہے:

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

پنجاب کی تاریخ خود بھی ایک دلچسپ تضاد ہے۔ یہ خطہ صوفیوں، شاعروں، کسانوں، موسیقاروں اور سپاہیوں کی سرزمین تو رہا، مگر حکمرانی کی مضبوط روایت یہاں نسبتاً کم رہی۔ راجہ پورس کا نام تاریخ میں روشن ہے، پھر صدیوں بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ نظر آتے ہیں۔ باقی زیادہ تر ادوار میں پنجاب یا تو بڑی سلطنتوں کا حصہ رہا یا بیرونی حکمرانوں کے زیرِ اثر۔

اسی لیے قیامِ پاکستان کے بعد پہلی بار پنجاب کو صرف کسی سلطنت کا صوبہ نہیں بلکہ ایک نئی ریاست کے مرکزی ستون کا کردار ملا۔ سوال یہ تھا کہ کیا ہم ایک جدید،........

© Daily Urdu