Bharat Aur Pakistan: Jang Ya Aman?
بھارت اور پاکستان: جنگ یا امن؟
اس مسئلے کو اگر ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو بھارت اور پاکستان کے درمیان امن صرف ایک سفارتی یا سیاسی خواہش نہیں، بلکہ یہ ہمارے لوگوں کی بہتر زندگی کے لیے ایک عملی ضرورت ہے۔ اس خطے کی تاریخ، سیاست اور معیشت پر کام کرنے والے بہت سے دانشور بار بار اس بات کی طرف اشارہ کرتے رہے ہیں۔
اصل بات بہت سادہ ہے دونوں ملکوں میں کروڑوں لوگ آج بھی غربت، بے روزگاری، مہنگائی، صحت اور تعلیم جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں مسلسل دشمنی دونوں ملکوں کی ترقی پر ایک اضافی بوجھ ہے۔ وہ پیسہ، وقت اور توانائی جو عوام کی زندگی بہتر بنانے پر خرچ ہو سکتی تھی، وہ دفاعی اخراجات، سرحدی کشیدگی اور سیاسی بحرانوں میں لگ جاتی ہے۔
فیض احمد فیض نے جنگ، نفرت اور تقسیم کے ماحول کے خلاف ہمیشہ انسان دوستی کی بات کی۔ ان کی شاعری بار بار یہ یاد دلاتی ہے کہ اصل جدوجہد انسان کی عزت، امن اور انصاف کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ مستقل دشمنی کے لیے۔ انہوں نے لکھا تھا:
یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ شعر صرف تقسیم کے درد کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ اس تلخ حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ سیاسی تنازعات کا اصل بوجھ عام لوگ اٹھاتے ہیں۔
تنازع کی اصل قیمت: معاشی ماہر امرتیہ سین Amartya Sen جیسے مفکرین کافی عرصے سے کہتے آئے ہیں کہ ترقی صرف GDP بڑھنے کا نام نہیں۔ اصل ترقی یہ ہے کہ لوگوں کو اچھی تعلیم، بہتر صحت، محفوظ زندگی اور آگے بڑھنے کے مواقع ملیں۔۔ اس نظر سے دیکھیں تو بھارت اور پاکستان کے درمیان مسلسل کشیدگی براہِ راست انسانی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے۔ دونوں ملک اربوں روپے ہتھیاروں، فوجی تیاریوں اور سرحدی انتظامات پر خرچ کرتے ہیں، جبکہ یہی وسائل اسکولوں، اسپتالوں، پانی، بجلی اور دیہی ترقی پر لگ سکتے تھے۔
ساحر لدھیانوی نے اسی تضاد پر بہت گہری تنقید کی تھی۔ ان کی نظموں میں بار بار یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب لوگ بھوک، غربت اور محرومی کا شکار ہوں تو جنگی جنون کس کے........
