Tasawur e Qurbani: Tareekh e Adyan Se Islam Tak
تصورِ قربانی: تاریخِ ادیان سے اسلام تک
انسانی تمدن کی تاریخ مابعد الطبیعاتی سچائیوں کی تلاش اور کسی برتر ہستی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی ازلی خواہش سے عبارت ہے۔ اس فکری و مادی سفر میں "قربانی" کا تصور ایک ایسے آفاقی ستون کی مانند ہے جس نے ہر دور، ہر خطے اور ہر مذہب میں انسانی جذبۂ ایثار کو مادی پیکر عطا کیا۔ لغوی دائرے میں قربانی کا مادہ "قرب" ہے، جو بظاہر دوریوں کو مٹانے اور محبوبِ حقیقی کی قربت حاصل کرنے کا وسیلہ ہے۔
ادبی اور فلسفیانہ نقطۂ نظر سے، قربانی دراصل انسان کے اندر موجود حیوانی جبلتوں پر اس کی روحانی بیداری کی فتح کا علامتی اظہار ہے۔ یہ محض ایک مذہبی رسم نہیں، بلکہ انسانی نفس کی وہ معراج ہے جہاں وہ اپنی عزیز ترین متاع کو کسی اعلیٰ مقصد پر نچھاور کرنے میں دلی مسرت محسوس کرتا ہے۔ تاریخِ ادیان کا مطالعہ گواہ ہے کہ خوف کی وادیوں سے سفر شروع کرنے والا یہ تصور کس طرح ارتقائی بستیوں سے گزرتا ہوا اسلام کے دامن میں آ کر اپنے معراجِ کمال کو پہنچا۔
تاریخ کے دھندلکوں میں اگر ہم قدیم ترین تہذیبوں کا سراغ لگائیں، تو قربانی کا ابتدائی تصور گہرے خوف، سہمے ہوئے دلوں اور غضب ناک دیوتاؤں کو پرسکون کرنے کی کوششوں سے جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ بابل، نینوا، قدیم مصر اور یونان کی اساطیری روایات میں مظاہرِ قدرت (جیسے سورج، چاند، سیلاب اور قحط) کو مافوق الفطرت قوتیں سمجھا جاتا تھا جو ذرا سی لغزش پر انسانی بستیوں کو تباہ کر سکتی تھیں۔ ان غیبی طاقتوں کا قہر ٹھنڈا کرنے کے لیے خون کا نذرانہ سب سے کارگر نسخہ مانا جاتا تھا۔ چنانچہ، ان تہذیبوں میں بدترین شکلوں میں "انسانی قربانی" کا رواج پیدا ہوا، جہاں معصوم بچوں اور جنگی قیدیوں کو سنگدل بتوں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا تھا۔ یہاں ایثار کا جذبہ مفقود تھا اور اس کی جگہ "خوف اور مجبوری کی سودے بازی" نے لے رکھی تھی، جہاں قاری کو انسان کی فکری پسماندگی کا احساس ہوتا ہے۔
برصغیر پاک و ہند کے مذہبی پس منظر میں ہندو مت کی قدیم ویدک روایت قربانی کو کائنات کا محور تسیلم کرتی ہے۔ ویدوں اور براہمن گرنتھوں میں "یگیہ" (Yajna) کی رسم کو کائناتی نظامِ قدرت (Rta) کو متحرک رکھنے کا واحد ذریعہ مانا گیا۔ اس دور میں یہ عقیدہ راسخ تھا کہ اگر دیوتاؤں کو اگنی (آگ) کے ذریعے اناج، گھی........
