menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Magar Ab Wo Chota Sa Larka Kahan Hai?

37 0
12.09.2026

مگر اب وہ چھوٹا سا لڑکا کہاں ہے؟

پچھلے دو ہفتے سے یہ سوگوار کالم نگار کوئی نیا کالم نہ لکھ سکا۔ برادرم محمد شکیل کے ذوقِ انتخاب نے اس دوران میں پُرانے کالم منتخب کرکرکے نئے قارئین کا جی بہلائے رکھا۔ نئے لوگوں کو شاید پُرانے کالم بھی نئے ہی لگے ہوں۔

23 اگست کی شام بانوے برس کی عمر میں والدہ محترمہ کی زندگی کی بھی شام ہوگئی۔ جاتے جاتے وہ اپنی یاد کی شمعیں روشن کرتی گئیں۔ فضیلۃ الشیخ خلیل الرحمٰن چشتی حفظہ اللہ نے نمازِ جنازہ پڑھانے سے قبل جو مختصر اور پُر اثر گفتگو کی، اُس میں اقبالؔ کا یہ شعر بھی پڑھا:

زندگی کی اوج گاہوں سے اُتر آتے ہیں ہم صحبتِ مادر میں طفلِ سادہ رہ جاتے ہیں ہم

شعر سنتے ہی سات برس کا لڑکا یکایک ستّر برس کا بوڑھا ہوگیا۔ سات سال کا وہ طفلِ سادہ، جس کو والدہ نے نماز سکھانے کے ساتھ ساتھ، بڑی محنت اور بڑے لحن سے اقبال ؔ کی ایک غزل بھی یاد کرائی تھی۔ "بانگِ درا" کی آخری غزل، جو یوں شروع ہوتی ہے:

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے من اپنا پُرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا

اس غزل کے ذکر پر ایک منظر یاد آگیا۔ ایک بار اُن کا یہ طفلِ سادہ، اُنھیں اپنے ساتھ لے کر لاہور گیا۔ لاہور کی سیر کراتے ہوئے جب شاہ عالمی دروازے کے باہر واقع "مسجدِ شب بھر" اُنھیں دکھائی تو وہ کِھل اُٹھیں، اُن کی خوشی دیدنی تھی۔ وہیں کھڑے کھڑے اُنھوں نے اقبالؔ کی یہ پوری غزل سنائی۔ اُسی دورۂ لاہور میں جب انار کلی بازار کے پاس ایک بغلی گلی میں اُن کو سلطان قطب الدین ایبک کا مزار دکھایا تو اُنھوں نے مزارِ قطب الدین ایبک پر کہی ہوئی حفیظؔ جالندھری کی نظم سنادی۔ اِس وقت اُن کا سُنایا ہوا صرف ایک شعر یاد آرہا ہے:

یہاں لاہور میں سوتا ہے اِک گمنام کوچے میں پڑی........

© Daily Urdu