Bazm Mein Chapqalish Bala Ki Hai
بزم میں چپقلش بلا کی ہے
سہارن پور، ہندوستان سے مدرسہ مظاہر علوم کے استاذ اور مجلہ "آئینہ مظاہر علوم" کے مدیر مولانا ناصرالدین مظاہری رقم طراز ہیں: "بعد سلام ونیازِ مقرون استفسار ہے کہ آج کل اُردو کے پڑھے لکھے حلقوں میں باہمی ناچاقی، طناطنی اور شکر رنجی کے مترادف کے طور پر چپقلش، کا لفظ بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ ازراہِ کرم اس لفظ کی لغوی و تاریخی تفصیل سے آگاہ فرمائیے کہ چپقلش، اصل میں کس زبان کا لفظ ہے؟ یہ اُردو میں کس ذریعے سے پہنچا اور یہاں آکر اس کے معنی میں کس طرح وسعت پیدا ہوئی؟ نیز اس کی وجہ تسمیہ یا وجوہِ تسمیہ کیا ہیں؟"
استادِ محترم کا دیا ہوا پرچۂ سوالات حل کرنے سے پہلے ایک پیچیدہ لفظ کا پیچھا کرلیتے ہیں۔ خط کی ابتدا میں مولانا نے لفظ "مقرون" استعمال فرمایا ہے۔ مقرون کے معنی ہیں ملاہوا، جڑا ہوا یا متصل۔ وہ چیزیں جو باہم پیوست اور مربوط ہوں۔ مقرون، ہی کے خاندان کا ایک لفظ قرین، یا قریں، ہمارے ہاں عام استعمال ہوتا ہے۔ اِس کے معنی بھی قریب، پاس، ملا ہوا اور مماثل ہیں۔ دوست اور ہم نشین کو بھی قرین، کہا جاتا ہے۔ جس بات کو عقل قبول کرلیتی ہو اُسے قرینِ قیاس، کہا جاتا ہے۔ قیاس اور اندازے کو قرینہ، بھی کہتے ہیں۔ مثلاً:
"قرینہ یہ کہتا ہے کہ زید وہاں ضرور گیا ہوگا"۔
یہی قرینہ، ڈھنگ، سلیقہ، شکل، صورت اور وضع کے معنی بھی دیتا ہے۔ ذوقؔ کے حواس نہایت قرینے سے بے قرینہ ہوگئے تھے:
حواسِ خمسہ جو میرے قریں تھے قرینے سے ہوئے سب بے قرینے
قدیم زمانے سے خطوط کے آغاز میں "سلامِ مسنون و نیازِ مقرون"لکھنے کا رواج چلتا چلا آرہا تھا۔ اس رواج میں رخنہ کیسے پڑا؟ اس پر ہم........
