Schoolon Mein Aaye Roz Chuttiyan, Haqaiq Kya Hain?
سکولوں میں آئے روز چھٹیاں، حقائق کیا ہیں؟
ملک میں جب بھی بچوں کی ضرورت کے پیشِ نظر سکولوں میں چھٹیاں کی جاتی ہیں تو سوشل میڈیا پر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور ہر طرف سے ایک ہی صدا سنائی دیتی ہے کہ "تعلیم تباہ ہو رہی ہے، بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے، سکولوں میں بہت زیادہ چھٹیاں ہو رہی ہیں"۔ کوئی اساتذہ کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے، کوئی حکومت کو کوستا ہے اور کوئی پورے تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے، مگر اس شور میں حقائق کہیں گم ہو جاتے ہیں۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے اور اس میں تسلسل بے حد ضروری ہے، لیکن ہر چھٹی ہمیشہ کسی "غفلت" کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پیچھے کچھ ایسی تلخ حقیقتیں بھی ہوتی ہیں جنہیں ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔ درحقیقت تعلیمی اداروں میں ہونے والی زیادہ تر چھٹیاں عیاشی یا لاپرواہی کا نتیجہ نہیں ہوتیں، بلکہ مجبوری کی پیداوار ہوتی ہیں۔ ان فیصلوں کے پیچھے زمینی حقائق، بچوں کی صحت اور حالات کی سنگینی کارفرما ہوتی ہے اور اہم بات یہ کہ یہ چھٹیاں اساتذہ کے کہنے پر نہیں بلکہ حکومت اور محکمۂ تعلیم حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتے ہیں۔
اگر ہم موسمی حالات کا جائزہ لیں تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ پنجاب میں گرمی اپنی شدت کی انتہا کو چھوتی ہے اور سردی ہڈیوں تک اتر جاتی ہے، یہاں سکولوں کو ان موسموں میں کھلا رکھنا محض ایک "تعلیمی ضد" تو ہو سکتی ہے، مگر انسانی تقاضوں کے خلاف........
