Deeni Madaris Mein Mazhabi Siyasat Ka Zeher
معاملہ محض جامعۃ الرشید یا کسی ایک دینی ادارے تک محدود نہیں، اصل مسئلہ اس مجموعی رویے کا ہے جس کے تحت دینی مراکز، مدارس اور علمی اداروں کو سیاسی مفادات، ذاتی تعصبات اور نفرت کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ فکر نہ صرف سطحی، تنگ نظر اور متعصبانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے، بلکہ اس تلخ حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ دین و شریعت سے محبت کے بلند بانگ دعوے رفتہ رفتہ کھوکھلے ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جامعۃ الرشید ہو یا کوئی اور دینی ادارہ، کوئی بھی انسانی ادارہ خامیوں سے مبرا نہیں ہوتا۔ اختلافِ رائے، تنقید اور اصلاح کسی بھی زندہ معاشرے کی علامت ہوتے ہیں، مگر تنقید کے بھی آداب ہوتے ہیں۔ اخلاق سے عاری زبان میں کی جانے والی الزام تراشی نہ تنقید کہلا سکتی ہے اور نہ اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یہ طرزِ عمل دراصل اخلاقی دیوالیہ پن، فکری بانجھ پن اور ذہنی بوکھلاہٹ کا اظہار ہے۔
مولانا فضل الرحمان ایک سینئر، تجربہ کار اور بڑے بزرگ مذہبی سیاسی رہنما ہیں۔ انہیں اپنے منصب، عمر اور تجربے کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ قیادت کا مقام یہ تقاضا کرتا ہے کہ رہنما کا طرزِ عمل کارکنوں سے بلند تر ہو، نہ یہ کہ وہی سطحی زبان، وہی جگتیں اور وہی لب و لہجہ اختیار کیا جائے جو عام کارکنوں کی پہچان بن چکا ہو۔ اگر واقعی دینی اداروں........
