Roshan Dil, Roshan Rastay
معاشرہ اضطراب کا شکار ہے۔ ہر طرف مایوسی کے ڈھیر ے۔ نوجوان مایوسی کی طرف بڑھ رہے۔ ہر انسان سکون کی تلاش میں ہے۔ آج کے دور میں نوجوانوں کی بے قراری، بے چینی اور ذہنی اضطراب کی سب سے بڑی وجہ مستقبل کی غیر یقینی صورتحال، معاشی عدم استحکام اور سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا دباؤ ہے۔ بدلتے ہوئے سماجی رجحانات اور جدید طرزِ زندگی نے ان کی سوچ، جذبات اور روزمرہ کے معمولات کو شدید متاثر کیا ہے۔ مفاد پرستی کا راج ہے۔ ہر حساس دل انسان جل رہا ہے۔ یہ جہاں ایک امتحان گاہ ہے۔ زندگی کے سفر میں انسان کو ہر طرح کے لوگ ملتے ہیں۔ کچھ وہ جو راستوں میں پھول بچھاتے ہیں اور کچھ وہ جو کانٹے بکھیرتے ہیں۔
کچھ چہروں پر مسکراہٹ سجاتے ہیں اور کچھ دلوں میں مایوسی اتار دیتے ہیں۔ مگر اصل امتحان یہ نہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس کے جواب میں کیا بنے۔ آج کا انسان عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ نفرت کے جواب میں نفرت دینا آسان ہوگیا ہے۔ سخت لہجے کا جواب سختی سے دینا معمول بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کرایک فرد تک، ہر طرف ردعمل کی آگ جل رہی ہے۔ کوئی ایک تلخ جملہ کہتا ہے تو دوسرا اس سے زیادہ زہر گھول دیتا ہے۔ جیسے سب نے یہ مان لیا ہو کہ اندھیرے کا جواب صرف اندھیرا ہی ہو سکتا ہے۔
کچھ لوگ عجیب ہوتے ہیں۔ وہ جہاں جاتے ہیں، اپنے ساتھ روشنی نہیں لے جاتے بلکہ اندھیرے بانٹتے پھرتے ہیں۔ ان کے لفظوں میں مایوسی، رویّوں میں زہر اور سوچ میں نفرت بسی ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کے خوابوں پر ہنستے ہیں، حوصلوں کو توڑتے ہیں اور........
