Be Muhabbat Zindagi Matam Hama o Imtina Jashan e Azadi
بے محبت زندگی ماتم ہمہ و امتناع جشن آزادی
جشن آزادی منانا یا نہ منانا نزاعی مسئلہ نہ تھا کہ جس پر بحث، گرفت، تنقید یا تحسین کی جاتی مگر موجودہ حالات میں اس پر تکنیکی و فنی بات چیت اس لیے لازم ٹہری کہ یہ سوچ لاکھوں قربانیوں، قائد و اقبال پر عدم اعتماد اور سادہ و سطحی ذہنوں میں فکری انتشار کا سبب بننے لگی تھی مگر اس سے قبل بنوں سے پی ٹی آئی کے منتخب رکن قومی اسمبلی مولانا نسیم علی شاہ کی حکیم الامت حضرت اقبال بارے لغو ہی نہیں گھٹیا گفتگو کہ جس میں موصوف نے اپنی عوامی گفتگو میں کہا کہ "اقبال کے خواب کا عذاب قوم بھگت رہی ہے"۔ پر احتجاج اور مذمت لازم کہ اس سے زیادہ ذہنی گراوٹ فکری زوال اور ذہنی انتشار اور کیا ہو سکتا ہے؟ اگر پی ٹی آئی اپنے ممبر اسمبلی کے خلاف کاروائی نہیں کرتی بالخصوص محترم ولید اقبال جو انہی کی جماعت کے سنیٹر اس پہ تحریک پیش نہیں کرتے تو یقین جانییے کہ اس ہرزہ سرائی کی قیمت پوری PTI کو اٹھانا پڑے گی۔
جشن آزادی نہ منانے کی وجوہات اصولی ہو سکتی ہیں جن پر بات چیت کے ذریعے فریق دوئم کو قائل کیا جانا لازم کہ اختلاف جمہوری حسن اور اسی سے اصلاح کی سبیل نکلتی ہے اور اگر یہ فکری انتشار اور نظریاتی بے راہ روی کہ جو مایوسی، فزٹریشن اور عناد کا نتیجہ، پھر یہ انتہا و شدت پسندی، جو بات چیت، مکالمہ و دلیل سے سمجھنے سمجھانے کی حدود سے نکل جاتی ہے۔
دنیا کا کوئی معاشرہ ایسا نہیں کہ جہاں صورتحال آئیڈیل ہو یا........
