Sco Sarbarahi Ijlas, Wo Baat Jo Report Nahi Hui
ایس سی او سربراہی اجلاس، وہ بات جو رپورٹ نہیں ہوئی
اگست2026بشکیک میں شنگھائی تعاون کونسل کا سربراہی اجلاس ہوا جس میں اس تنظیم کے تمام ممبران بشمول وزیرِ اعظم پاکستان و ایسوسی ایٹ ممبران شریک ہوئے۔ اجلاس میں چند ممالک نے روسی صدر جناب ولادی میر پیوٹن کو گھیر کر اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ روس، یوکرین جنگ کو فوری طور پر روکنے اور یوکرینی صدر جناب زیلنسکی سے ملاقات پر آمادہ ہو جائیں۔
اس اجلاس سے کچھ روز پہلے یوکرین نے امریکا اور جرمنی کے مہیا کردہ لانگ رینج میزائلوں سے روس کے اندر دور تک حملے کیے، حتیٰ کہ دارالحکومت ماسکو بھی ان حملوں کی زد میں آیا۔ روس کے صدر جناب پیوٹن نے ان حملوں کو بہت سنجیدگی سے لیا اور یوکرین کے دارالحکومت کیف کے ساتھ اہم یوکرینی بندرگاہ اوڈیسہ پر شدید حملے کی منظوری دی۔ اوڈیسہ بلیک سی میں واقع یوکرین کی بہت اہم گہرے پانیوں والی بندرگاہ ہے۔ اوڈیسہ کا ساحلی شہر بہت خوبصورت اور دیکھنے کے قابل ہے۔ یوکرینی بندر گاہ پر روسی حملے یوکرین کے لیے بہت نقصان دہ ہیں۔
ایک تو بیرونِ ملک سے آنے والی ساری فوجی امداد اسی بندرگاہ کے راستے یوکرین پہنچتی ہے اور دوسرا یوکرین کی تجارت بہت حد تک اسی بندرگاہ کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔ یوکرین بہت فاضل اناج پیدا کرنے والا ملک ہے۔ یوکرین اپنی اجناس اسی بندرگاہ سے ایکسپورٹ کرتا ہے۔ بہت سارے افریقی ممالک اور چند ایشیائی ممالک غربت کے ساتھ ساتھ خوراک کی قلت کا شکار ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے خوراک ان ممالک کے لیے یوکرین سے اجناس خرید کر ان ممالک کو پہنچاتا ہے تاکہ ان ممالک میں قحط سالی نہ ہو۔
اوڈیسہ پر روسی حملوں کے نتیجے میں کام کی معطلی نہ صرف یوکرین کی معیشت کے لیے تباہی ہے بلکہ کمزور اور خوراک کی کمی کا شکار ممالک میں قحط سالی کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان بھی یوں متاثر ہوتا ہے کہ پاکستان بھی یوکرین سے گندم اور ٹینکوں کے انجن درآمد کرتا ہے۔ یہ بہت افسوس کا مقام ہے کہ زرخیز زمین، چار مختلف موسم اور بہترین نہری نظام کے باوجود پاکستان خوراک میں خود کفالت کے بجائے گندم درآمد کر رہا ہے۔ اس سے بڑی نا اہلی اور کیا ہو سکتی ہے۔
یوکرین کی بندرگاہ........
