Tum Chalay Aao Paharon Ki Qasam
تم چلے آؤ پہاڑوں کی قسم
کبھی کبھی آدمی کو موت سے زیادہ ان الفاظ پر حیرت ہوتی ہے جو کسی کی موت کے فوراً بعد اس کے گرد جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ حادثہ ابھی تازہ ہوتا ہے، گھر والوں کے آنسو ابھی خشک نہیں ہوئے ہوتے، خبر ابھی لوگوں کے ذہنوں میں پوری طرح اتری بھی نہیں ہوتی کہ ہمارے ہاں ایک عجیب سی عادت حرکت میں آ جاتی ہے، کوئی نیت کا فیصلہ سناتا ہے، کوئی کردار کا، کوئی ایمان کا اور کوئی موت کی نوعیت کا۔ گویا میت ابھی پہاڑ سے نہیں ملی، مگر فیس بک کی عدالت اپنا فیصلہ سنا چکی۔
سید علی شاہ میاں گیارہ جولائی کو فلک سیر کی چوٹی سے واپسی کے دوران برف پوش پہاڑوں میں آنے والے ایک طوفان کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئے تھے۔ انچاس دن بعد ان کا جسدِ خاکی برف کی تہوں سے دریافت ہوا۔ پہاڑ نے ایک انسان کو اپنے سینے میں اتنے دن چھپائے رکھا اور ادھر ہم نے چند لمحوں میں اس موت کی نیت بھی متعین کرلی۔ کسی نے کہا، یہ خودکشی ہے، کسی نے پوچھا، آخر وہاں جانے کی ضرورت ہی کیا تھی اور کسی نے اس سارے واقعے کو چند سطروں کے ایک ایسے فیصلے میں سمیٹ دیا جس کے لیے نہ اسے حالات کا علم تھا، نہ مرحوم کی نیت کا، نہ کوہ پیمائی کے فن کا۔
خودکشی ایک ارادی عمل ہے۔ انسان جان بوجھ کر اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کرے اور اسی مقصد کے لیے قدم اٹھائے تو اسے خودکشی کہا جاتا ہے۔ اب ایک ایسے شخص کے بارے میں، جو کوہ پیمائی کے لیے نکلا، جس نے واپسی کا سفر شروع کیا، جس نے اس خطرناک ماحول میں اپنی جان بچانے کے لیے جدوجہد کی اور بالآخر ایک ناگہانی طوفان کی زد میں آگیا، صرف اس بنیاد پر خودکشی کا حکم لگا دینا کہ وہ پہاڑ پر کیوں گیا تھا، نیت اور حادثے کے درمیان موجود بنیادی فرق کو مٹا دینے کے مترادف ہے۔
دنیا میں........
