Khone Aur Paane Ka Silsila
کھونے اور پانے کا سلسلہ
میں کئی بار کھویا ہوں اور کئی بار خود کو پایا۔ قصہ یوں ہے کہ کبھی رسالے اخبار میں چھپنے کا شوق تھا، اسکول میں تھا کہ "بچوں کا صفحہ" میں چھپنے لگا، بھول نہیں رہا تو روزنامہ جنگ، راول پنڈی کا یہ صفحہ منگل وار کو نکلتا تھا۔ جس روز "بچوں کا صفحہ" میں نام شایع ہوتا، میں اسکول بھر میں اترائے پھرتا۔ ڈرامے بنانے لگا تو ہاتھ سے پریس ریلیز لکھ کر اخبار کے دفاتر میں جمع کرا آتا، چوں کہ بی اے میں ایک مضمون ایڈورٹائزمنٹ کا تھا تو پریس ریلیز کی زبان سیکھ لی تھی۔
شوبز رپورٹر میرا لکھا جوں کا توں چھاپ دیتے اور اس پر میں اترائے پھرتا۔ پھر وہ وقت آیا کہ پریس ریلیز کی حاجت نہ رہی، چھاپنے والوں نے خود ہی چھاپ دیا، اترانا بھی کچھ کچھ کم ہوگیا۔ بچپن سے لے کر شوبز میں........
