menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dunya Ki Tareekh Ki Sab Se Faisla Kun Jang?

27 0
14.07.2026

دنیا کی تاریخ کی سب سے فیصلہ کن جنگ؟

نیچے پہاڑی کے دونوں جانب پھیلے میدان میں تاحدِ نگاہ سیاہ خیمے نصب ہیں، جن کے آگے میدان میں قِطاروں میں گھڑسوار ہاتھوں میں بھالے تھامے ترتیب سے کھڑے ہیں۔ شہسواروں کی قطاروں میں سے ایک درمیانی عمر کا شخص اپنے سیاہ شامی گھوڑے کو ایڑ لگا کر لشکرکے بائیں طرف لے گیا۔ اس کا تمام بدن زنجیر دار زرہ بکتر میں ملفوف ہے اور سر پر آہنی خود ہے جس نے چہرے کے ایک حصے کو بھی ڈھانپ رکھا ہے۔ آنکھیں بے حد نمایاں اور چمکیلی ہیں جن میں عزم کی سختی جھلکتی ہے۔ یہ عبدالرحمٰن ابن عبداللہ الغافقی ہے۔

الغافقی نے آنکھیں سکیڑ کر دیکھا، ایک میل دور پہاڑی پر درختوں کے اندر بھی بے حد ہل چل کا سماں ہے۔ جہاں سے چڑھائی شروع ہوتی ہے وہاں ہاتھوں میں لکڑی کی ڈھالیں سنبھالے، شانے سے شانہ، قدم سے قدم ملائے سپاہیوں کی قطاریں ایستادہ ہیں، جو دور کسی ہزارپا کی طرح نظر آ رہی ہیں۔

الغافقی کی فوج 30 ہزار گرم و سرد چشیدہ سواروں پر مشتمل ہے اور یہ دریا سنہ 732ء میں رومیوں کی بنائی ہوئی نیم پختہ شاہ راہ پر ٹھاٹھیں مارتا ہوا فرانس کے وسط میں پوئیٹیرز شہر سے قریب اور پیرس سے کوئی تین ساڑھے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر بڑھا چلا جا رہا تھا کہ یکایک اس کا راستا جنگل میں کھڑی فرنگی ہزار پا نے روک دیا ہے۔

الغافقی کی فوج کا بیشتر سواروں پر مشتمل ہے۔ ہر سوار سر سے پیروں تک زرہ بکتر میں غرق ہے۔ عرب کمان داروں کی زرہِ بکتر باریک زنجیروں پر مشتمل ہیں، جو تلوار کا وار اُچٹنے کے لیے بے حد کارگر ہیں۔ جری بربر سورماؤں کے ہاتھ میں لمبے نیزے ہیں۔ یہ دشمنوں کی صفیں پلٹنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

دوسری طرف فرنجی فوج کا غالب حصہ پیادہ سپاہیوں پر مشتمل ہے اور ویسے بھی یہ بات ہے سنہ 732ء کی۔ اس وقت ارض الکبیر، یعنی یورپ میں بھاری کیولری مفقود ہے، جس کی وجہ ایک بہت سادہ اور بظاہر معمولی نظر آنے والی چیز گھوڑے کی رکاب کا فقدان ہے۔ بغیر رکاب کے گھڑ سوار میدانِ جنگ میں آسانی سے پینترا بدلنے اور دشمن پر موثر حملہ کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوتا ہے، اس لیے یورپی گھڑسوار فوجی اکثر گھوڑے کو میدانِ جنگ تک سفر کے لیے استعمال کرتے تھےاور عین لڑائی کے وقت گھوڑے سے اتر کر میدان میں پیادہ فوج کے شانہ بہ شانہ دادِ شجاعت دیا کرتے تھے۔ قرونِ وسطیٰ کے یورپ کا ذکر آتے ہی ذہن میں زرہ پوش نائٹ کا خیال آتا ہے، لیکن یہ نائٹ دراصل عربوں نے یورپ میں متعارف کروایا تھا۔

الغافقی کے لیے فرانس نیا علاقہ نہیں ہے۔ گیارہ برس پیشتر وہ طولوس کے معرکے میں السمح ابن المالک کی کمان میں لڑ چکا ہے۔ اس لڑائی میں اموی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ خود السمح میدانِ جنگ میں آنے والے زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا تھا، لیکن اب الغافقی اپنے سپہ سالار کا بدلہ لینے 30 ہزار سواروں پر مشتمل فوج لے کر آن پہنچا ہے۔

الغافقی کے مدِ مقابل فرنجی فوج کی کمان چارلز مارٹل (چارلز ہتھوڑا) کے ہاتھ میں ہے، جس نے ہر صورت میں اپنی سرزمین کو عربوں سے بچانے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔ لیکن جو بات الغافقی اور چارلز مارٹل دونوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں، وہ یہ ہے کہ کچھ دیر بعد چھڑنے والی جنگ کو نہ صرف عہد ساز بلکہ تاریخ ساز قرار دیا جائے گا۔ الغافقی اور مارٹل نہیں جانتے تھے کہ اکتوبر کی اس سرد شام کے ایک ہزار برس بعد تاریخ دان ایڈورڈ گبن اس جنگ کے بارے میں لکھے گا کہ اس میں فتح عربوں کو:

پولینڈ کے میدانوں اور سکاٹ لینڈ کے پہاڑی درّوں تک لے جاتی۔ دریائے رائن نیل یا فرات سے زیادہ گہرا نہیں ہے۔ عرب بحری بیڑا بغیر لڑے ہوئے ٹیمز کے دہانے پر آ کھڑا ہوتا۔ عین ممکن ہے کہ آج آکسفرڈ یونیورسٹی میں قرآن پڑھایا جا رہا ہوتا اور اس کے میناروں سے پیغمبرِ اسلام کی تعلیمات کی تقدیس بیان کی جا رہی ہوتیں۔۔

چھوٹی سی رینو ٹیکسی میں سیاہ فام ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ کر میں فرانس کے پوتیے شہر کے شمال مشرق کی طرف روانہ ہوگیا۔ میری منزل بیس کلومیٹر دور ایک جگہ تھی۔ راستے میں ایک بے حد دل کش نیلگوں جھیل نظر آئی لیکن میں کوشش کے باوجود اس کا نام نہیں دیکھ سکا۔

آدھے گھنٹے کے بعد ٹیکسی ایک چھوٹی سی پہاڑی پر بنی ہوئی ایک عمارت کے سامنے کھڑی تھی، جس کے بائیں طرف ایک چھوٹی ندی بہتی ہے جو کئی جگہوں پر چھوٹی چھوٹی جھیلوں میں منقلب ہو جاتی ہے، جب کہ دائیں طرف اونچی نیچی زمین پر ہرے بھرے کھیتوں کے بعد ایک چھوٹی سی بستی ہے جس کے ساتھ ساتھ ایک دریا کی جھلک بھی نظر آ رہی ہے۔

یہ وہ مقام ہے جسے فرانسیسی اپنی زبان میں موسائی لا بتائل اور عربی میں بلاط الشہدا کہتے ہیں۔

میں ٹیکسی سے اتر آیا۔ مئی کا مہینا ہے، لیکن پھر بھی ہلکی سی خنکی کا احساس ہو رہا ہے۔ آسمان کسی بچے کی آبی رنگوں سے بنائی ہوئی تصویر کے مانند بے حد نیلا ہے۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد دور سڑک سے کسی گاڑی کی آواز کے باوجود فضا گمبھیر سکوت کی تہوں میں لپٹی ہوئی ہے۔ میں گہرا سانس لے کر کچھ سننے کی کوشش کرتا ہوں۔

تھوڑا آگے بڑھ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ سیاحوں کی سہولت کے فرانسیسی حکومت نے معلوماتی بورڈ نصب کر رکھے ہیں۔ یہیں زمین پر شطرنج کی طرز کے 64 خانے بنے ہیں جن کے اندر نہ صرف اس کارزار کی باتصویر تفصیلات رقم ہیں، بلکہ اسلام اور اسلامی تاریخ کے بارے میں بھی معلومات درج کی گئی ہیں۔ بساط کے بیچوں بیچ ایک جھنڈا نصب کیا گیا ہے جس پر 732 کے ہندسے درج ہیں۔ معلوم نہیں اس جگہ کے بنانے والوں کو یہ معلوم تھا کہ نہیں کہ شطرنج ہندوستانیوں کی ایجاد سہی لیکن اسے عربوں ہی نے یورپ میں متعارف کروایا تھا۔

خاموشی، بے کراں خاموشی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد مجھے مدھم مدھم سی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ غور سے سننے کی کوشش کرتا ہوں تو آوازیں کچھ کچھ واضح ہونا شروع ہوتی ہیں، جیسے ریڈیو کی سوئی گھما کر سٹیشن کی نشریات صاف ہو جاتی........

© Daily Urdu (Blogs)