menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dasht e Imkaan Aur Kandyali Thor: Urdu Aur Punjabi Shayari Mein Maqamiat Aur Fitrat Nigari

32 0
30.06.2026

دشتِ امکاں اور کنڈیالی تھور: اردو اور پنجابی شاعری میں مقامیت اور فطرت نگاری

کیا وجہ ہے کہ ایک شاعر جب اردو میں لکھنے کی سوچتا ہے قلم اٹھاتے ہی کائنات، زمان و مکان، خدا، تقدیر، ازل و ابد اور فنا و بقا کے آفاقی، رتھ پر سوار ہو جاتا ہے اور ایسی تجریدی، فرضی اور مصنوعی دنیا تخلیق کرنے لگتا ہے جو صرف تصوروں، خوابوں اور خیالوں میں موجود ہے اور حقیقت سے اس کا اتنا ہی تعلق ہے جتنا پاؤں کے چھالے سے لامکاں کا۔

مگر کیسی عجیب بات ہے جب وہی شاعر اپنی مادری پنجابی زبان میں لکھتا ہے تو کاغذ پر کپاس کے ڈوڈے بکھرتے ہیں، سرسوں کے ساگ کا ذائقہ زبان پر گھلتا ہے، گدّے کی للک، ڈھول کی تھاپ سنائی دیتی ہے، چرخے کی گھوں گھوں کانوں میں پڑتی ہے، مقامی ثقافت کی میٹھی مہک مشام میں آتی ہے اور اچانک ایک ہنستی رستی بستی بس جاتی ہے۔

ایسے شاعروں کی مثالیں بعد میں، پہلے ہم اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ اردو شاعری مقامی ثقافت سے بڑی حد تک کٹی ہوئی کیوں ہے، اس میں مٹی کی خوشبو کیوں نہیں ہے اور کیوں اس میں ہمیں ٹھوس دنیا نظر نہیں آتی جسے چھوا جا سکے، محسوس کیا جا سکے؟

اردو شاعری کی تاریخ پر ایک نظر

آفرینش یعنی امیر خسرو کو ایک طرف رکھیں تو اردو شاعری کا آغاز دکن سے ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دکن میں لکھی جانے والی وجہی اور نصرتی کی مثنویوں اور قلی قطب شاہ کی نظموں میں دیسی، مصالحہ موجود تھا، مگر اردو تاریخ کی کتابوں کے مطابق 1700 کے قریب صوفی بزرگ شاہ گلشن نے ولی دکنی کو مشورہ دیا کہ فارسی مضامین، تراکیب اور اسالیب بیکار پڑے ہیں، انہیں کیوں استعمال نہیں کرتے؟ ولی نے اپنے مرشد کی نصیحت کا استرا ہاتھ میں پکڑ، اپنی غزل کو دکنی یعنی دیسی عناصر کی حجامت کر ڈالی۔

انہی ولی کا دیوان 1722 میں دلی پہنچا، پہنچتے ہی بقول میر شیطان کی طرح وائرل ہوگیا اور ہر کوئی ان کے انداز میں شاعری کرنے لگا۔ لیکن دلی والوں کو دارالحکومت کے باسی ہونے کے ناطے جو تفاخر تھا، اس کی وجہ سے وہ کسی صورت تسلیم نہیں کر سکتے تھے کہ وہ دکنی روایت کی پیروی کر رہے ہیں، اس کا لازی نتیجہ ایک ایسی شعوری کوشش کی صورت میں نکلا جس میں انہوں نے اردو کو دیسی دکنیت، سے پاک کرنے کی کوشش کی اور مقامی عناصر (ہولی، دیوالی، ساون بھادوں)، مقامی الفاظ (پیا، سجن، گوری، پریتم وغیرہ) کے ساتھ لچر، کی دم باندھ دی اور ولی سمیت دیگر دکنی شاعروں کو کان سے پکڑ کر کینن سے باہر کر دیا گیا۔

اس بحث میں ہم غزل کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں کہ غزل تو ہے ہی رسومیاتی اور روایتی صنف جو حقیقی دنیا کے متبادل اور مقابل اپنی الگ دنیا تخلیق کرتی ہے جس کا اصل دنیا سے تعلق محض رسمی ہوتا ہے، ظاہر ہے اس میں مٹی اور مٹی کی خوشبو کہاں سے آئے۔ ویسے بھی جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، یہ صنف اردو نے فارس سے جڑوں سمیت اکھاڑ کر اپنے آنگن میں نصب کر دی اور صدیوں سے اس پر انہی مفرس خیالات، درآمدہ تصورات، مضامین، معانی اور انسلاکات کا پانی دیتے چلے آ رہے ہیں۔

آپ کہیں گے قصیدے میں بڑا بڑا منظر ملتا ہے، خاص طور پر تشبیب میں بہار کا احوال، شکار، پہاڑ، صحرا، گل و گلشن۔ لیکن اس امر کو کیا کیجیے کہ قصیدہ غزل سے زیادہ روایتی اور رسومیاتی صنف ہے۔ اس میں کوئی حقیقی منظر نہیں ہیں جو شاعر نے اپنی آنکھوں سے دیکھے، سنے، سونگھے اور رقم کیے ہوں۔ یہ خالص آئیڈیالائزڈ آرائشی کنونشن ہے، کاغذی پھولوں کا باغ ہے، جس پر شاعر لفاظی کا کتنا بھی عطر چھڑکے، اس سے اصل باغ کی خوشبو نہیں آتی اور باغ تو ویسے بھی مصنوعی ہوتا ہے، اصل فطرت اس میں کہاں ملتی ہے۔

اردو کے سب سے بڑے قصیدہ نگار سودا کو دیکھیے تو پتہ چلے گا کہ صرف زبان اردو ہے، ورنہ باقی سب کا سب فارسی سے قسطوں پر ادھار لیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ سودا نے اپنے اکثر قصیدوں کی زمینیں بھی فارسی کے بڑے شعرا انوری، خاقانی، عرفی اور صائب وغیرہ سے اٹھائی ہیں۔

آب جو گردِ چمن لمعۂ خورشید سے ہے خطِ گلزار کے صفحہ پہ طلائی جدول

سایۂ برگ ہے اس لطف سے ہر اک گل پر ساغرِ لعل میں جوں کیجے زمرد کو حل

فیضِ تاثیرِ ہوا یہ کہ اب حنطل سے شہد ٹپکے جو لگے نشترِ زنبورِ عسل

یہ خالص ایرانی چمن ہے، اس کا ہندوستان سے کیا لینا دینا۔

اب آ جاتے ہیں مثنوی پر۔ عام تصور ہے کہ مثنوی میں کیا پائے کی فطرت نگاری ہوتی ہے، کیا باغ و راغ، کیا پھول بوٹے، کیا کوہ و دمن، کیا دشت، کیا بیابان۔ مگر غور سے دیکھیں تو مثنوی میں بھی وہی کچھ ہے۔ مثالی دنیا، افسانوی، خیالی، سوچی ہوئی دنیا، دیکھی اور محسوس کی ہوئی نہیں۔

میری باتوں پر نہ جائیے، میر حسن کی مثنوی سحرالبیان کا یہ ٹکڑا دیکھ لیجیے:

کھڑے سرو کی طرح چمبے کے جھاڑ کہے تو کہ خوشبوئیوں کے پہاڑ

کہیں زرد نسریں، کہیں نسترن عجب رنگ پر زعفرانی چمن

پڑی آبجو ہر طرف کو بہے کریں قمریاں سرو پر چہچہے

گلوں کا لبِ نہر پر جھومنا اسی اپنے عالم میں منھ چومنا

آپ کہیں گے مرثیہ بھول گئے، جس میں صحرا و دریا، جنگ و جدل، گھوڑے، تلوار، دوپہر کی تپش، اس قدر تفصیلی حسی جزئیات کہ اسے اردو بیانیہ شاعری کا جھومر کہا جاتا ہے۔

یہ نکتہ سر آنکھوں پر، مگر مجھے کہنے دیجیے کہ مرثیے کی فضا بھی مثنوی کی طرح مکمل رسومیاتی ہے۔ منظر نگاری کی حد تک مرثیے میں بڑی حد تک دو ہی مظاہر کا بیان ملتا ہے، صبح کے وقت صحرا میں گل و گلشن کی بہار کے زمزمے اور دوپہر کے وقت جہنمی گرمی کی چیرہ دستیاں۔ یہاں جو باغ و بہار دکھائی گئی ہے یہ دیکھی اور محسوس کردہ بہار نہیں ہے، یہ گل بوٹے شاعر کے دیکھے گل بوٹے نہیں ہیں کیوں کہ قصیدے کی طرح یہاں بھی محور مبالغہ ہے اور مبالغہ بھی چھت پھاڑ۔ انیس کے ہاں سے مثال دیکھیے:

ٹھنڈی ٹھنڈی وہ ہوائیں وہ بیاباں و سحر دم بدم جھومتے تھے وجد کے عالم میں شجر

اوس نے فرش زمرد پہ بچھائے تھے گہر لوٹی جاتی تھی لہکتے ہوئے سبزے پہ نظر

دشت سے جھوم کے جب باد صبا آتی تھی صاف غنچوں کے چٹکنے کی صدا آتی تھی

شاعری کمال کی ہے، مگر جو ماحول دکھایا گیا ہے وہ روایتی شاعرانہ ماحول ہے۔ ہم جس دیسی پن اور مقامیت کی بات کر رہے ہیں وہ اس میں نہیں ہے اور ہوتی بھی کیسے، یہ ہندوستان کا بیان ہی نہیں۔

اب وہ مقام آ گیا ہے جہاں ہمیں اس شاعر سے آنکھیں چار کرنا ہوں گی جس سے بچ کے نہیں نکلا جا سکتا اور وہ ہیں نظیر اکبر آبادی۔

قلی قطب شاہ، وجہی اور نصرتی جیسے دکنی شاعروں کو چھوڑ کر نظیر اکبر آبادی وہ پہلے اردو شاعر ہیں جن کے ہاں ٹھیٹ دیسی رنگ جھلکتا ہے، بلکہ جھلکتا کیا، چھلکتا ہے۔

سر سید اور حالی کی مقصدی شاعری اور بیسویں صدی کی ترقی پسندی سے کہیں پہلے نظیر عام پیشوں، مزدروں،........

© Daily Urdu (Blogs)