menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ambar Bail Ki Uljhi Bailen (2)

17 0
12.06.2026

"امبربیل" کی الجھی بیلیں (2)

اردو میں فطرت نگاری کی گنی چنی مثالوں میں سب رنگ میں شائع ہونے والی امبربیل، کی 21ویں قسط بھی آتی ہے جس میں جنگل کا ماحول یوں باندھا گیا ہے کہ پڑھنے والے کو صرف آس پاس کے منظر دکھائے ہی نہیں گئے بلکہ سنوائے اور محسوس بھی کروائے گئے ہیں۔ انوار صدیقی تو خیر کسی شمار قطار میں ہی نہیں، اردو کے اچھے اچھے ادیب بھی عام طور پر خود کو صرف حسِ بصارت کی تنگ گلی تک محدود کرکے اسی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے چلے جاتے ہیں، جب کہ اچھا فکشن تو کیا، اچھی نثر بھی وہی ہوتی ہے جو باقی چار حسوں سے بھی کام لینے پر قادر ہو۔

اسی جنگل والی قسط سے ایک مثال دیکھیے: لیکن میری آہٹ سے پیڑوں پر بسیرا کرنے والے پرندے پھڑپھڑانے لگے۔ میں نے ان کی پروا نہیں کی۔ تھوڑی دیر میں ایسا محسوس ہوا جیسے پورا جنگل جاگ گیا ہو۔ شاید جنگل کے تمام باسیوں کو پتہ چل گیا تھا کہ کوئی پاگل جانور اندھیرے میں سفر کر رہا ہے۔ ہر طرف پرندوں کا شور گونجنے لگا اور پھر اس شور پر درندوں کی چنگھاڑ غالب آ گئی۔ پورا جنگل حرکت میں آ گیا تھا۔۔

جمشید جتنا بھاگتا دوڑتا اس سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے، اتنا ہی اس دلدل جنگل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ وہ جس چوٹی پر چڑھ کر کسی آبادی کے آثار دیکھنے کی کوشش کرتا ہے، اسے چاروں طرف جنگلوں سے ڈھکی پہاڑیوں کا لامتناہی سلسلہ نظر آتا ہے۔ یہ جال دراصل کیچو نے بچھایا ہے اس کا مقصد بالآخر جمشید سے وصال کی آرزو ہے۔

جمشید اس طلسم میں یوں پھنس جاتا ہے کہ اسے لگتا ہے یہ جنگل پھیل کر سارے کرۂ ارض پر محیط ہوگیا ہےاور وہ کبھی یہاں سے نکل نہیں پائے گا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ وہ ہفتوں یا مہینوں دن رات چلنے کے بعد دوبارہ اسی جگہ پہنچ گیا جہاں سے پہلے بھی گزرا تھا۔ (اس موقعے پر شاید آپ کو ایک ہارر فلم بلیئر وِچ پراجیکٹ، یاد آئے، جس میں اسی قسم کا نہ ختم ہونے والا جنگل ہے، مگر وہ بھی بہت بعد میں یعنی 1999میں بنی تھی۔)

ایک طویل عرصہ اس جنگل میں سر مارنے کے بعد آخر ایک دن جمشید کی ملاقات ایک سادھو سے ہوتی ہے۔ وہ سادھو اسے بتاتا ہے کہ دیوی نجانے کب سے جمشید کی راہ دیکھ رہی ہے اور اس سے وصال کا لمحہ قریب ہے۔ جلد ہی دیوی کے درشن ہو جاتے ہیں۔ یہاں ذرا شکیل عادل زادہ کے قلم کی جولانیاں دیکھیے کہ جیسے و ہ بھی نجانے کب سے اسی لمحے کا منتظر تھا:

اس کی زلفیں سیاہ اور دراز تھیں اور ان کے درمیان اس کا چہرہ، وہ چاندی سے بنا ہوا تھا یا شفق سے یا خون سے۔ میری آنکھوں کو سکتہ ہوگیا۔ اس کے دمکتے ہوئے رخساروں سے جیسے کرنیں پھوٹ رہی تھیں، یا جیسے اس کے رخسار آئینہ ہوں جن پر دودھیا اور سرخ رنگ کی روشنی کا ملا جلا عکس........

© Daily Urdu (Blogs)