Meeru
وہ ہمیں دھمکی لگا رہا تھا کہ اگر ٹیم میرے علاقے کی طرف آئی تو پھر آپ لوگ اپنے ساتھ کسی بھی قسم کے ہونے والے سُلوک کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ ہم اس وقت موسیٰ خیل بازار میں محکمہ زراعت کے ضلعی آفیسر حنیف خان کے دفتر میں موجود تھے اور کنگری روڈ پر کشپان کے علاقے میں اپنے پراجیکٹ کے تحت تعمیر ہونے والے ایک تالاب کی تعمیراتی کوالٹی کو چیک کرنا چاہتے تھے۔ اس تالاب کا مقصد زرعی مقاصد کے لیے پانی کو ذخیرہ کرنا تھا۔
تاہم مِیرو ہمیں ڈرا دھمکا کر اس علاقے میں جانے سے روک رہا تھا۔ کبھی وہ اس علاقے میں تازہ ہونے والی قبائلی لڑائی کو بنیاد بناکر کہتا کہ ہمیں اپنی جان کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہئے۔ کبھی وہ کہتا کہ یہ ایک دُشوار گزار پہاڑی راستہ ہے اور سکیم تک پہنچنا بہت ہی مشکل ہے۔
آخر جب بحث لمبی ہوئی تو اس نے ہمیں سنگین نتائج کی دھمکی دے ڈالی۔ یہ بات میرے لیے بہت........
