Tao Ka Rasta
چین کا ایک بوڑھا کسان تھا۔ اُس کے پاس صرف ایک گھوڑا تھا اور ایک بیٹا۔ ایک صبح گھوڑا رسّی تُڑوا کر پہاڑوں میں بھاگ گیا۔ گاؤں والے افسوس کرنے آئے "کتنی بُری خبر ہے!" بوڑھے نے آسمان کی طرف دیکھا اور بس اتنا کہا "اچھی ہے یا بُری کون جانتا ہے؟"۔ چند دن بعد وہی گھوڑا واپس لوٹا مگر اکیلا نہیں، اپنے ساتھ جنگل کے کئی جنگلی گھوڑے بھی لے آیا۔ لوگ خوشی مناتے ہوئے آئے "کتنی اچھی خبر ہے! ۔ " بوڑھے نے پھر وہی جواب دیا۔ "اچھی ہے یا بُری کون جانتا ہے؟"۔ بیٹے نے ایک جنگلی گھوڑے کو سدھانا چاہا، گِرا اور اُس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ لوگ پھر افسوس کرنے آئے۔ بوڑھے کا جواب نہ بدلا۔ پھر بادشاہ کی فوج گاؤں میں آئی۔ جوانوں کو جنگ کے لیے زبردستی لے جانے۔ ٹوٹی ٹانگ والا بیٹا وہیں رہ گیا۔ یہ سب دیکھ کر بوڑھا خاموشی سے مسکرانے لگا۔ یہ کہانی ڈھائی ہزار سال پرانی ہے مگر آج بھی اس میں ہر اس دل کا علاج ہے جو ہر واقعے پر "اچھا" یا "بُرا" کا لیبل چپکا کر خود کو تھکا دیتا ہے۔ یہ بوڑھا کوئی جادوگر نہ تھا۔ وہ صرف ایک راستے پر چل رہا تھا جسے چینی لوگ "تاؤ" کہتے ہیں۔
آج سے تقریباً پچیس صدیاں پہلے، چین ٹکڑوں میں بٹا ہوا تھا۔ ریاستیں آپس میں لڑ رہی تھیں، لوگ خوف میں جی رہے تھے اور ہر طرف طاقت اور کنٹرول کی دوڑ تھی۔ اُسی زمانے میں ایک دانا شخص گزرا جسے لاؤ زی (Laozi) کہا جاتا ہے۔ اُس نے ایک چھوٹی سی کتاب چھوڑی "تاؤ........
