menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Main Ne Ghalat Kya Tha, Amma?

24 0
28.04.2026

میں نے کیا غلط کیا تھا، اماں؟

سنو۔ یہ کہانی کومل کی ہے۔ لیکن کومل کا نام تم نے نہیں سنا ہوگا۔ کومل کی کہانی اخبار کے ایک کونے میں آئی تھی اور تم نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے صفحہ پلٹ دیا تھا۔ یاد کرنے کی کوشش کرو۔

اب یہ کہانی پھر سنو۔ اس بار چائے نہیں۔ اس بار ہاتھ خالی رکھو اور دل کو تیار کرو۔ کیونکہ جو میں اب کہنے جا رہی ہوں، وہ تم سے پوچھے گا ایک سوال اور اس سوال کا جواب تمہیں اپنی قبر میں بھی ڈھونڈنا پڑے گا۔ (سخت لہجے کی گستاخی معاف)

دوپہر کا وقت تھا۔ سنسان گلی۔ گرمی سے پتھر تپ رہے تھے۔ کومل گھر سے نکلی۔ گلابی فراک پہنی تھی۔ ماں نے بالوں میں کلپ لگایا تھا۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ وہ گڑیا کو گود میں لیے باہر آئی۔ اسے نہیں پتا تھا کہ دنیا میں "درندے" بھی ہوتے ہیں۔ اسے تو بس گڑیا کو سُلانا تھا۔ گلی خالی تھی۔ یا شاید خالی نہیں تھی۔

تم نے کبھی سوچا ہے کہ شیطان گلیوں میں کب آتا ہے؟ جب تم سو رہے ہوتے ہو؟ جب تم موبائل دیکھ رہے ہوتے ہو؟ جب تم نے سوچا: "ابھی تو وہ ابھی نکلی ہے، آ جائے گی"؟ ہاں، تبھی آتا ہے۔

اس دن گلی میں ایک بھیڑیا تھا۔ انسان کی شکل میں۔ اسے پتا تھا کہ کون سی گلی سنسان ہوتی ہے۔ اسے پتا تھا کہ کون سی ماں غافل ہوتی ہے۔ اسے پتا تھا کہ کومل اکیلے آئے گی۔ کیونکہ اس بھیڑیے نے یہ سب پہلے بھی کیا تھا اور پہلے بھی کوئی نہیں بولا تھا۔

کومل نے دیکھا کہ ایک بڑا آدمی اس کے پاس آیا۔ مسکرایا۔ شاید ٹافی دکھائی۔ شاید کہا: "چلو، تمہاری امی نے بلایا ہے"۔

کومل کو کیسے پتا چلتا کہ یہ جھوٹ ہے؟ اس نے تو ابھی ابھی سچ بولنا سیکھا تھا۔ اس کی دنیا میں جھوٹ تھا ہی نہیں۔

بھیڑیے نے ہاتھ پکڑا۔ کومل نے "امی" کہا۔ منہ دبایا گیا۔ "ابو" کہا۔ زور سے دبایا گیا۔ پھر اس نے کسی فرشتے کو پکارا لیکن فرشتے اس گلی میں نہیں آتے تھے۔

اور پھر۔۔ پھر وہ ہوا، جسے بیان کرنے کے الفاظ نہیں۔ جسے سننے کے لیے کان نہیں، کلیجہ چاہیے۔ جسے سمجھنے کے لیے ماں ہونا پڑتا ہے۔

پانچ سال کی بچی۔ پانچ منٹ کا ظلم۔ پوری زندگی کی ویرانی۔

جب وہ گھر پہنچی دروازہ کھلا۔ کومل اندر آئی۔ فراک پھٹی ہوئی۔ بال بکھرے........

© Daily Urdu (Blogs)