menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jin Aur Bhooton Ki Iqsam

15 0
yesterday

جن اور بھوتوں کی اقسام

یوں تو ہمارے ہاں چپے چپے پر عامل باوا بیٹھا ہے یا شف شف والی سرکار جو جن نکالنے پر مامور ہیں۔ مگر ایک بندے کی ویڈیو دیکھ کر تو میں مارے حیرت کے گنگ ہوگیا۔ وہ ویڈیو اب مجھے مل نہیں رہی وگرنہ پوسٹ کر دیتا۔ جیسے ہی دوبارہ کہیں سامنے آئی ضرور لگا دوں گا۔

آج تلک جتنے بھی ایسے ٹوپی ڈرامے دیکھے ان میں عامل یا پیر بندے کے اندر حاضر جن سے دو سوال لازمی پوچھتا ہے۔ پہلا یہ کہ کتنی عمر ہے تیری؟ اس سوال کے جواب میں جن زدہ بندے کی جانب سے ہمیشہ ہزار بارہ سو سال ہی جواب آتا ہے۔ دوسرا سوال یہ کہ مسلمان جن ہے کہ کافر؟ لیکن وہ جو ویڈیو میں پیر تھا وہ نیکسٹ لیول تھا یعنی ایک سٹیپ آگے۔ اس نے پوچھا "مسلمان ہو کہ کافر؟"۔ جواب آیا "مسلمان"۔ اب کے اس نے کیا خوب سوال پوچھا "سنی کہ شیعہ؟"۔ جن نے جواب دیا "شیعہ"۔

پیر صاحب نے جلال میں آ کر بندے کے سر پر ہاتھ رکھا اور بولے "تائیں تو سخت ٹیٹھ ایں۔ تیرا ایسا علاج کراں گا کہ تو انشااللہ سُنی وی ہو جاویں گا تے کاکے شاہ ولی سرکار دے مزار تے پہرہ وی دیویں گا نالے جھاڑو وی پھیریں گا"۔

اس کے بعد انہوں نے آسمان کی جانب منہ اُٹھا کر "کل من توبی و توبو وصلی و گلی از منجلہ من ذالک" (نجانے یہ کس زبان کا ورد ہے) پڑھا اور اس کے ساتھ ہی جن چمٹا بندہ کانپتا ہوا غش کھا کر گر گیا۔ اس کی اداکاری کے پیسے پورے ہو گئے تھے۔

لیکن یہ سب کتھا لکھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ آج تلک جن مسلمان یا کافر ہی سنا تھا۔ پیر صاحب نے مزید تحقیق کا دروازہ وا کر دیا ہے۔ امید ہے کہ انسپائر ہو کر مستقبل قریب میں بقیہ عامل و پیر صاحبان لوگوں کے دیوبندی، وہابی، بریلوی جن بھی نکالنے لگیں گے اور ان کو اپنے مسلک میں تبدیل کروا کے جھاڑو بھی پھروایں گے۔ ان جنات کی یہی سزا ہے۔

نیز یہ بھی........

© Daily Urdu (Blogs)