menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jaane Wo Hum Kidhar Gaye

29 0
08.06.2026

یہ اُس وقت کی بات ہے جب نان ایک روپے کا اور محبت سولہ آنے سچی ہوتی تھی۔ زندگی کا چالیسواں کیا ہوا ہر یاد تسبیح پر سو دفعہ پڑھ لی ہے مگر پھر بھی تشفی ہنوز دور است۔ سٹی پبلک ہائی اسکول سیالکوٹ کے برابر بنی سائیکل پارکنگ کے باہر کھڑا خان حلیم والا مجھے دنیا کا سب سے بڑا حاتم طائی لگتا تھا۔ دو روپے میں نان کو حلیم بھرے چمچ کے ساتھ ایسا رومانس کرواتا کہ روح میں اُتر جاتی تاثیر مسیحائی کی۔ نان کو حلیم سے لبڑ دیتا۔ کیا ذائقہ تھا بیان سے باہر ہے۔ زبان جب مرچوں سے جلنے کا اعلان کرتی تو ریڑھی پر دھرے سلور کے ٹیڑھے میڑھے گلاس ماشکی بن جاتے۔ ایک نان کے ساتھ حلیم کی گریوی مفت میں لے کر کھانا ایک معمول تھا۔ لکڑی کے ڈبے میں پڑے نان شام تک تازہ و ترو تازہ رہتے۔ مگر حلیم نے شام کہاں دیکھی تھی۔ بارسلونا کے ریسٹورانٹ میں پیزے کے نام پر اکڑی روٹی پر پھیلی چند دالیں اور سوس کھاتے ہوئے میری آنکھیں کیوں بھر آئی تھیں یہ راز اللہ جانتا تھا یا پھر وہ حلیم والا خان بابا۔

سیالکوٹ کی محبت بھری زندگی کہیں اور میسر نہیں۔ اس شہر کے سینے پر دوڑتے تانگے ریڑھوں کی آواز میں جو ردھم تھا اور وہ سُر تھا کہ جو چھڑ گیا سو چھڑ گیا۔ گرمیوں کی دوپہر میں دروازے پر دستک ہوتی کہ باجی روٹی ہے گی؟ سالن نہیں تے برف دے دیو۔ ننھی بچیاں کندھے پر کوڑا اٹھانے والا چولا اٹھائے گلیوں میں یوں پھرتی رہتیں جیسے اپنی نانی کے گھر پھر رہی ہوں۔ میری ماں لازمی اضافی روٹیاں پکا کر رکھتیں اور سالن بھی اضافی ہوتا۔ پکھی واسوں کی یہ بچیاں غول بنا کر پھرتی رہتیں۔ کسی بھی گھر سے کھانا کھا لیتی تھیں اور برف جمع کرتی تھیں۔ ایک بار دروازے پر دستک ہوئی۔ میں گرمی کی شدت سے تھکا ہارا لیٹا تھا۔ مجھے ان پکھی واسوں کی آواز سنائی دی تو غصہ آ گیا۔ میں نے جھڑک دیا۔ اماں نے سنا اور بولیں "تینوں پتا اے کہ اللہ سانوں رزق ایناں دی وجہ توں دیندا اے تے ایناں نوں ساڈی وجہ توں؟"۔ بس اس دن رزق اور احترامِ آدمیت کا اصول سمجھ لیا۔

چھوٹی سی بے ضرر لڑائیاں بچپن کا حُسن تھیں۔ بچوں کی لڑائیاں اس وقت ختم ہو جاتیں جب گلی کی نکڑ سے کسی دروازے سے آواز آتی کہ بالو گڑ و ونڈی دی چیز لے جاؤ (بانٹے جانے والی اشیاء خور و نوش)۔ سب سے پہلے شرارتی بچے دوڑ کر ونڈی دی چیز وصول کرتے۔ اس بارش کے پہلے قطرے کی دیر ہوتی پھر تو بچوں کا ہجوم لگ جاتا۔ باجی میرا حصہ، میرے چھوٹے بھائی دا حصہ، کی آوازیں گونجنے لگتیں۔ جیسے ہی تقسیم کا خاتمہ ہوتا تو کامیابی سے ونڈی کی چیز لینے والے بچے ناکام بچوں کو احساسِ تفاخر سے دیکھتے۔ مگر پھر بچے دوست آپس میں ونڈی کی چیز مزید بانٹ لیتے۔ بس پھر کیا ونڈی کی چیز اکھٹے مل کر کھانے والے بچے جوان ہو کر اکھٹے کباب لگانے اور کھانے کی روایت کے امین ٹھہرتے۔ اسکول میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان گویا ایک تین مہینے کے میلے کا اعلان ہوتا تھا۔ گرمیوں کی وجہ سے والدین کی بھرپور کوشش ہوتی کہ بچے گھر سے باہر نہ جائیں۔ گھر میں کھیلنے کے لیے کیرم بورڈ لا کر دیا جاتا۔ کیرم بورڈ کھیلتے ہوئے ساری دنیا چار خانوں کا کھیل بن........

© Daily Urdu (Blogs)