Ghurbat
غربت کا بھی ایک عجیب نصیب ہے۔ اکثر غریب آدمی کو کبھی خود احساس نہیں ہوتا کہ وہ غریب ہے۔ پہلے ایک سروے آتا ہے، پھر دوسرا، پھر ایک قائمہ کمیٹی پھر ایک خبری رپورٹ۔ آخرکار ایک دن سرکاری کاغذ پر لکھ دیا جاتا ہے کہ مبارک ہو آپ واقعی غریب ہیں۔ یوں برسوں سے جو آدمی آدھی روٹی کھا رہا تھا اسے آخرکار سرکاری سند بھی مل جاتی ہے اور غربت کا حقیقی احساس بھی۔
ہمارے ہاں سرکاری طریقہ کار بھی جگ سے نرالا ہے۔ بچہ اسکول سے باہر ہے؟ فارم بھر دیجیے۔ پانی نہیں؟ درخواست دے دیجیے۔ ہسپتال دور ہے؟ متعلقہ دفتر سے رجوع کیجیے۔ گویا مسئلہ حل ہونا ضروری نہیں رجسٹر میں درج ہونا ضروری ہے۔ یہاں زخم پر مرہم بعد میں رکھا جاتا ہے پہلے اس کا ڈائری نمبر جاری کیا جاتا ہے۔ ہر چند برس بعد کچھ لوگ مردم شماری کی غرض سے آتے ہیں۔ پوچھتے ہیں، گھر میں کتنے افراد اور کتنے کمرے ہیں؟ اپنا ہے یا کرائے پر؟ ماہانہ آمدن؟ گیس ہے؟ چھت پکی ہے؟ بچے........
