Muahida Makkah Nai Tashkeel e Aalam
معاہدہ مکہ نئی تشکیلِ عالم
امت مسلمہ کے تین عظیم و جلیل دفاعی ستونوں پاکستان ترکی اور سعودی عرب کے مابین قائم ہونے والا تاریخی "معاہدہ مکہ" عالم اسلام کے روشن مستقبل اور اتحاد کا ایک ایسا خِطہ نور ہے جس نے مسلم امہ کے دلوں میں عزت و وقار کی نئی روح پھونک دی ہے۔ یہ معاہدہ کوئی معمولی سیاسی سمجوتہ نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کا وہ سنہری باب ہے جو نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن یعنی نیٹو کے مساوی دفاعی حصار تشکیل دیتا ہے۔
اس روح پرور معاہدے کی بنیادی ترین اور سحر انگیز شق نیٹو کے آرٹیکل فائیو کی طرز پر اجتماعی دفاع کا مضبوط ترین عزم پیش کرتی ہے جس کے تحت ان تینوں میں سے کسی ایک بھی بھائی پر ہونے والا ہر جارحانہ حملہ درحقیقت ان تینوں اسلامی طاقتوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اس کا دندان شکن جواب تینوں اقوام مل کر باہم متحد ہو کر دیں گی۔ اس دفاعی میثاق کی دیگر اہم ترین شقیں سرحدوں کی مشترکہ حفاظت اور تمام فوجی صلاحیتوں کی ہم آہنگی کی ضامن ہیں جن کے تحت تینوں ممالک کے فوجی دستے جدید ترین جدید ٹیکنالوجی انٹیلی جنس معلومات اور دفاعی آلات کے باہمی تبادلے کے ذریعے ایک ناقبل تسخیر آہنی دیوار بن جائیں گے۔
مشترکہ دفاعی پیداوار اور عسکری صنعت کو فروغ دینا بھی اس تاریخی دستاویز کی بنیادی شق کا حصہ ہے تاکہ بیرونی انحصار ختم کرکے اسلام کے ان مراکز کو مکمل طور پر خود کفیل بنایا جا سکے اس بے شک و شبہ معاہدے نے مسلم دنیا کو انتشار اور بے بسی کے تاریک سائے سے نکال کر شان و شوکت، وقار، رعب و دبدبہ کی نئی........
