menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mitti Ke Madhu Rul Gaye

17 0
28.10.2026

جس دھرتی کے سینے کو چیر کر کسان نے صدیوں سے اس ملک کے کروڑوں انسانوں کا پیٹ بھرا آج وہی محنت کش خود لقمہ اجل بننے پر مجبور ہے۔ موجودہ زرعی پالیسیوں کے تلخ حقائق پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کسان کو سہارا دینے کے بجائے ہر موڑ پر بوجھ تلے دبایا گیا۔ زرعی مداخل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بے حس انتظامی رویوں نے زراعت کے پورے ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیا مہنگی ترین کھادیں کیڑے مار ادویات کے ہوشربا نرخ اور ٹیوب ویل کے لیے بجلی و ڈیزل پر بھاری ٹیکسوں نے کاشتکاری کو منافع بخش پیشہ بنانے کے بجائے ایک ایسا گھاٹے کا سودا بنا دیا جہاں کسان ہر فصل کی کٹائی پر مزید قرضدار ہو جاتا ہے۔

حکومت کی ترجیحات پر تعمیراتی اور وقتی منصوبے تو غالب نظر آتے ہیں مگر ملکی معیشت کی اس ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط کرنے کے لیے کوئی پائیدار جامع پالیسی نہیں بنائی گئی۔ پالیسی سازوں کی اس بے حسی نے محنت کش کے ہاتھ سے اس کی عزتِ نفس بھی چھین لی ہے اور اسے اپنے ہی کھیتوں میں بے بس کر دیا ہے۔ اگر زراعت کی اس زبوں حالی اور کسانوں کے اس معاشی قتلِ عام کا نوٹس نہ لیا گیا تو یاد رکھیے کہ اس کا انجام صرف کسان کی تباہی تک محدود نہیں رہے گا۔ زراعت کے ڈوبنے کا سیدھا مطلب ملک میں خوفناک قحط ہنگامی معاشی بلیک ہول اور فوڈ سیکیورٹی کا مکمل........

© Daily Urdu (Blogs)