Farsooda Nizam Ka Noha
پاکستان میں جمہوری نظام کی شکست و ریخت کسی ایک حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ دہائیوں پر محیط ادارہ جاتی کشمکش، سیاسی موقع پرستی اور سماجی زوال کا شاخسانہ ہے۔ اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اس ابتر صورتِ حال کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہمارا ناہموار اور ناپختہ انتخابی ڈرافٹ ہے۔ وہ نظام جہاں شعور و بصیرت سے لبریز رائے اور ایک لمحاتی مفاد کی خاطر بیچے گئے ووٹ کو یکساں وزن دیا جائے، وہاں جمہوریت کے اصل روح یعنی "دانشِ اجتماع" کا قتلِ عام ہوتا ہے۔
جب غربت، افلاس اور معاشی تنگی کو دبا بنا کر ووٹ کی قیمت چند ہزار روپوں میں طے کی جائے تو نتیجے میں منتخب ہونے والی قیادت عوامی خیرخواہ نہیں بلکہ ایک خریدار بن کر سامنے آتی ہے۔ گزشتہ چند انتخابی معرکوں نے اس تاثر کو پختہ تر کر دیا ہے کہ ووٹنگ کا عمل محض عوامی جذبات سے کھیلنے اور وقت ضائع کرنے کا ڈرامہ بن چکا ہے۔ عوام کو الیکشن کے الجھاوے میں مبتلا رکھ کر پسِ پردہ اپنی مرضی و منشا کے مطابق نتائج مرتب کیے جاتے ہیں اور نمائندوں کا "انتخاب" نہیں بلکہ "سلیکشن" کی جاتی ہے۔ اس انجینئرڈ جمہوریت کا نتیجہ ہمیشہ ایسی کمزور اور ناپائیدار مخلوط حکومتوں کی صورت میں نکلتا ہے جو عوامی خوشحالی کے بجائے اپنے اپنے سیاسی وجود کو بچانے اور ذاتی مفادات کا تحفظ کرنے میں محوِ پیکار رہتی ہیں۔
پاکستان میں صوبائیت کا پھیلتا ہوا زہر ایک ایسا خاموش ناسور ہے جو قومی یکجہتی کے وجود کو اندھا دھند چاٹ رہا ہے۔ اگر اس خطرناک تعصب کا خاتمہ کرکے ون یونٹ،........
