Ye Kainat Abhi Natamam Hai Shayad (1)
یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید (1)
قارئین محترم، آج کا موضوع بہت وسیع بلکہ اس میں اہل علم کے لئے بہت بڑی نشانیاں ہیں۔ ترجمعہ قرآن۔ وہی اللہ ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیرتے پھرتے ہیں۔ (سورتہ الانبیاء آیت 33)
اس موضوع سے جڑے ہوئے کچھ حقائق نبی رحمت ﷺ کی زبان مبارک سے خصوصاََ آسمانوں اور عرش الہیٰ کے بارے میں ہیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان 500 سال کی دوری یعنی فاصلہ ہے (اب یہ حقیقت اللہ کریم بہتر جانتا ہے کہ کس رفتار سے سفر کیا جائے تو یہ سفر طے ہوگا مطلب روشنی کی رفتار سے سفر کیا جائے یا اس کا کوئی اور پیمانہ ہے۔ (واللہ علیم بذات الصدور) اور اسی طرح دوسرے آسمان سے تیسرے آسمان کے درمیان 500 سالوں کا فاصلہ ہے اب اس طرح سے جب سات آسمانوں کے درمیان سفر کیا جائے تو ہر آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان 500 سال کا فاصلہ تو گویا سات آسمانوں کے سفر کو طے کرنے کے لئے تقریباََ 3500 سال کا عرصہ درکار ہوگا۔
ان سات آسمانوں کے اوپر کیا ہے بقول قرآن کریم۔ ان کے یعنی آسمانوں کے اوپر وسع کرسی۔ اب یہ کرسی کس طرح کی ہیت اور شکل اور سائز کی ہے اس کا علم اللہ پاک کی زات کو ہے۔ اب ایک بات سمجھنے کی ہے کہ کرسی اور عرش الگ الگ ہیں ہوسکتا ہے کچھ لوگ ان کو ایک ہی سمجھتے ہوں مگر یہ دونوں جدا جدا ہیں۔ اب کرسی کے اوپر کیا ہے 500 سال کی مسافت پر پانی ہے۔
اب یہ پانی اتنا وسیع........
