Shounter Tunnel Aur Takhtiyon Ki Siasat
شونٹر ٹنل اور تختیوں کی سیاست
پاکستان میں ترقیاتی منصوبے اکثر عوام کی ضرورت سے زیادہ سیاست دانوں کی انا کا مسئلہ بن جاتے ہیں۔ دنیا کے مہذب ممالک میں حکومتیں بدلتی ہیں مگر منصوبے نہیں بدلتے کیونکہ وہاں سڑک، پل، ڈیم یا ٹنل کسی جماعت کی نہیں بلکہ قوم کی ملکیت سمجھی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ نئی حکومت آتے ہی سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون سا منصوبہ سیاسی مخالف کے کھاتے میں جاتا ہے اگر ایسا ہو تو اسے روک دیا جاتا ہے سست کر دیا جاتا ہے یا پھر اس کا نام بدل کر نئی تختی لگا دی جاتی ہے یوں وقت ضائع ہوتا ہے، قومی سرمایہ برباد ہوتا ہے اور نقصان صرف عوام کا ہوتا ہے۔
شونٹر ٹنل بھی استور اور بلتستان کے عوام کا ایسا ہی دیرینہ خواب ہے یہ صرف ایک سرنگ نہیں بلکہ دو خطوں کے درمیان معاشی، سماجی اور سیاحتی انقلاب کا راستہ ہے۔ یہ منصوبہ مکمل ہونے سے سفر کے فاصلے کم ہوں گے تجارت بڑھے گی سیاحت کو نئی زندگی ملے گی اور ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اس لیے اس منصوبے کو کسی ایک شخصیت یا جماعت کی عینک سے دیکھنا دراصل عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کے دور میں اس منصوبے کو عملی سمت دینے کی سنجیدہ کوششیں کی گئیں اگر کسی نے اس خواب کو سرکاری فائلوں سے نکال کر عملی میدان تک پہنچانے کی کوشش کی تو اس........
