Kirdar Ke Baghair Aqeedat Ka Shor
کردار کے بغیر عقیدت کا شور
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے یہ صرف عبادات نعروں یا جذباتی وابستگیوں کا نام نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں اعتدال، حیا، وقار اور کردار کا درس دیتا ہے۔ آج کے دور میں ایک عجیب المیہ یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ لوگ دین کی روح سے زیادہ اس کے ظاہری مظاہروں میں دلچسپی لینے لگے ہیں کہیں بلند آواز نعروں کو عشق سمجھ لیا گیا ہے۔ کہیں جذباتی خطابت کو دینداری کا معیار مان لیا گیا ہے اور کہیں شہرت و نمائش کو تبلیغِ دین کا نام دے دیا گیا ہے حالانکہ اسلام کا مزاج شور ہنگامہ اور نمائش نہیں بلکہ سکون وقار اور عمل ہے۔
خصوصاً جب اہلِ بیتِ اطہارؑ، ازواجِ مطہراتؓ یا سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ الزہراؓ کی شان بیان کی جاتی ہے تو اس مقام پر سب سے زیادہ احتیاط ادب اور کردار کی ضرورت ہوتی ہے۔ حضرت فاطمہؓ صرف ایک عظیم شخصیت نہیں بلکہ حیا پاکیزگی، صبر، عبادت اور نسوانی وقار کا کامل نمونہ ہیں۔ ان کی زندگی میں نمود و نمائش نہیں تھی ان کے کردار میں سادگی تھی ان کی گفتگو میں حیا تھی اور ان........
