menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Haramain Shareefain Par Hamari Jaane Qurban

22 0
17.09.2026

حرمین شریفین پر ہماری جانیں قربان

حرمین شریفین کی حرمت ہر مسلمان کے دل کا مقدس ترین جذبہ ہے مگر افسوس کہ ہمارے ہاں کچھ فتویٰ فروش مذہبی اہلکار اسی مقدس جذبے کو فرقہ وارانہ سیاست اور نفرت انگیز پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے جب سیاسی مصلحت تقاضا کرے تو ان کی زبان پر جہاد، غیرتِ ایمانی اور حرمتِ حرمین کے نعرے گونجنے لگتے ہیں لیکن جب ظلم کے حقیقی مراکز کے خلاف عملی کردار قربانی اور ثابت قدمی کا وقت آتا ہے تو یہی بلند بانگ دعوے اکثر منبر اور مائیک سے آگے نہیں بڑھتے یوں محسوس ہوتا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مسجدِ نبوی ﷺ کی حرمت سے کہیں زیادہ انہیں اپنے مفادات، مراعات اور پیٹ کی فکر لاحق ہے اسی لیے تحقیق، دیانت اور اتحادِ امت کے بجائے الزام تراشی اشتعال اور جھوٹے پروپیگنڈے کو ترجیح دی جاتی ہے۔

حرمین شریفین کی محبت کسی ایک مسلک جماعت یا سیاسی گروہ کی میراث نہیں اگر واقعی دل میں کعبہ کی عظمت اور مدینۃ الرسول ﷺ کی محبت ہے تو اس محبت کا پہلا تقاضا سچ بولنا بے گناہوں کے خون کی حرمت تسلیم کرنا مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے سے گریز کرنا اور امت کی وحدت کو مقدم رکھنا ہے۔ کسی مسلمان گروہ پر محض سیاسی یا مسلکی تعصب کی بنیاد پر ایسا الزام عائد کرنا جس کے لیے معتبر ثبوت موجود نہ ہو خود اسی حرمت کے تقاضوں سے انحراف ہے جس کے نام پر یہ شور برپا کیا جاتا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مقدساتِ اسلام کو نفرت کا ہتھیار بنانے والوں کے بجائے امت کو جوڑنے والوں کی آواز سنیں حرمین شریفین کی حرمت کا دفاع نعروں کی شدت سے نہیں سچائی، انصاف، ذمہ داری اور مسلمانوں کے باہمی احترام سے ہوتا ہے۔

خانۂ کعبہ اور مسجدِ نبویﷺ صرف سعودی عرب کی نہیں پوری امتِ مسلمہ کی مقدس امانت ہیں ان مقدس مقامات کی حرمت پر کسی بھی قسم کی زد ناقابلِ قبول ہے خواہ حملہ آور کا تعلق کسی بھی مسلک، جماعت، ملک یا........

© Daily Urdu (Blogs)