Awam Ka Wo Dard Ab Kahan Hai?
عوام کا وہ درد اب کہاں ہے؟
پاکستانی سیاست بھی عجیب شے ہے یہاں اقتدار سے پہلے ہر سیاست دان کا دل بڑا نرم ہوتا ہے۔ عوام کا ہر دکھ محسوس ہوتا ہے ہر مہنگائی قیامت لگتی ہے اور ہر روپے کا اضافہ قومی سانحہ بن جاتا ہے لیکن جونہی اقتدار کی کرسی میسر آتی ہے دل پر ایسی سرکاری مہر لگتی ہے کہ عوام کی چیخیں بھی ایوانِ اقتدار تک پہنچتے پہنچتے شاید پروٹوکول کے شور میں دب جاتی ہیں۔ اب یہاں عوامی درد کی جگہ فرعون کا قہر پورے زور سے چلتا ہے۔
مجھے آج بھی وہ دور یاد ہے جب ایک باپ کی بیٹی بڑے اعتماد بڑے تیقن اور شاید اس سے بھی بڑے سیاسی معصوم پن کے ساتھ فرمایا کرتی تھیں کہ پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ بھی میاں صاحب کے دل کو تکلیف دیتا ہے اسکی رات کی نیند خراب ہوتی ہے بے چینی بڑھتی ہے کیا خوب زمانہ تھا! جھوٹ بولنے کا عوامی توجہ حاصل کرنے کا مگر قدرت کا کھیل بھی بڑا عجیب ہوتا ہے پھر انہی کی حکومت آتی ہے پوری کہانیاں عوامی درد سب ختم ہوتا ہے 180 والا پیٹرول 550 تک چلا جاتا ہے اب وہ درد ایک روپے بڑھنے کا چھو منتر ہوتا ہے اور عوامی درد سب بھوک جاتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر پیٹرول کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں۔ اب انہیں عوام یاد نہیں اپنی عیاشی یاد رہ جاتی ہے عوام کے پاس کھانے کو روٹی نہیں جبکہ ان کے پاس 11 ارب کا جہاز آتا ہے اور لندن کی سیریں ہوتی ہیں ایک روپیہ بڑھتا تھا اور دل دکھتا تھا۔
آج دل کا حال پوچھیں تو لگتا ہے جیسے دل نے بھی اقتدار کی قسم کھا رکھی ہے کہ عوام کے معاملے میں بالکل نہیں پگھلنا پیٹرول مہنگا ہوتا ہے دل نہیں دکھتا۔ بجلی مہنگی ہوتی ہے دل نہیں دکھتا آٹا مہنگا ہوتا ہے، دل نہیں دکھتا دوائی مہنگی ہوتی ہے دل نہیں دکھتا۔
بچے کی فیس بڑھتی ہے دل نہیں دکھتا غریب کا چولہا ٹھنڈا ہوتا ہے دل نہیں دکھتا مزدور روزگار سے محروم ہوتا ہے دل نہیں........
