Garish e Ayyam
انیس سو اسی میں جب ہم افریقی ملک صومالیہ کے شہر ہرگیسہ میں پہنچے تو شروع میں ہمیں سب سے بڑی مشکل کھانے کے بارے میں ہوئی۔ اس علاقے کے لوگوں کی بنیادی خوراک گوشت تھی۔ حلوہ کدو کے علاوہ سبزی کوئی بھی نہیں ہوتی تھی۔ گھروں میں روٹی پکانے کا رواج نہیں تھا۔ دیسی تنوروں سے بن کی طرح میدے کی روٹی ہوتی جس میں صفائی کا خیال نہ رکھا جاتا اور مٹی کنکر ساتھ ہی پکے ہوتے۔
جو گھر ہمیں ملا اس میں کھانا پکانے کے لئے تیل کا چولہا تھا گیس کا وہاں کوئی تصور نہ تھا، مارکیٹ میں آلو پیاز لہسن اور مصالحے سب ملتے تھے لیکن ایتھوپیا سے آتے تھے۔ ہمارے کچھ دن تو دعوتوں اور ہوٹل سے کھانے میں گزر گئے لیکن پھر مارکیٹ کا چکر لگا کر ضروری چیزیں اور مصالحے خریدے اور اپنا کچن شروع کیا۔ گوشت میں آلو خالی گوشت کا شوربہ قیمہ آلو گوشت میں حلوہ کدو پکانے کو بس یہی کچھ میسر تھا۔ گندم کا آٹا بھی نہیں تھا اور توا تو ڈھونڈے سے بھی نہ ملا تو روٹی کیسے پکتی۔ ناچار ایک نسبتاََ بہتر مقامی تنور سے روٹی لائی جاتی۔ موٹے چاول صرف پلاؤ کی شکل میں کھانے کے قابل ہوتے بس ان چند چیزوں کو ادل بدل کرکے پکا لیتے پیٹ تو کسی طور بھرنا ہی تھا نا جیسے تیسے بھر لیتے۔۔
پہلی بار ہم سال بھر وہاں رہے تیل کا چولہا جلانے کے لئے مٹی کے تیل کی کمی نہ آئی۔ بجلی کی سپلائی بھی بہتر رہی بجلی کے جنریٹر ڈیزل سے چلتے تھے۔ مٹی کا تیل اور ڈیزل سعودی عرب سے آتا تھا سبزیوں اور توے کی........
