Private Hospitals Ki Hartal
پرائیویٹ ہسپتالوں کی ہڑتال
30 ستمبر ملکی تاریخ کا ایک تاریک دن تھا جب شاید پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پرائیویٹ کلینکس اور ہسپتالوں نے حکومتی اداروں کے رویوں کے خلاف ہڑتال کی ہے۔ یہ ہڑتال بظاہر تو ایف بی آر کی پالیسیوں کے خلاف تھی لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے محکمہ صحت اور ہیلتھ کیئر کمیشن کی کاروائیاں بھی شامل ہیں۔ حیرانگی کی بات ہے کہ جس ہیلتھ کیئر کمیشن نے صوبے سے عطائیت کو ختم کرنا تھا اس کا بڑا نشانہ آج کل کوالیفائیڈ ڈاکٹر اور ان کے کلینکس ہیں۔
آج بھی لاہور جیسے اہم شہر میں ہزاروں عطائی موجود ہیں اور بڑی آزادی کے ساتھ عطائیت چلا رہے ہیں لیکن ضلعی ہیلتھ آفیسر اور ہیلتھ کیئر کمیشن کے لوگ کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کے کلینکس کو بند کرنے میں مصروف ہیں۔ پچھلے چند دنوں میں مجھے لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور قصور سمیت کئی شہروں سے کچھ کوالیفائیڈ ڈاکٹروں نے فون کرکے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے ان کے کلینکس پر چھاپے مار کر انھیں ہراساں کررہے ہیں اور یہاں تک کہ کئی کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کے کلینک تک سیل کر دئیے گئے ہیں۔ یہ وہ ڈاکٹر ہیں جو بیس بیس سال سے اپنا کلینک چلا رہے ہیں اور ان کے پاس ایم بی بی ایس کی ڈگریاں موجود ہیں اور ساتھ میں پی ایم ڈی سی کے سرٹیفکیٹ اور ہیلتھ کیئر کمیشن کی رجسٹریشن تک دستیاب ہے۔ پھر بھی ان کے کلینک سیل کردئیے گئے۔
حیرانی کی بات ہے کہ جن علاقوں میں ڈاکٹروں کے کلینکس پر شب خون مارا گیا تھا بالکل انھیں علاقوں میں تھوک کے حساب سے عطائی ڈاکٹر موجود ہیں۔ مجھے لاہور ہی سے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ جب ڈسٹرکٹ ہیلتھ........
