menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Nawaz Sharif Ka Karkun Mayoos Hai

23 0
31.05.2026

نواز شریف کا کارکن مایوس ہے

مسلم لیگ ن ملک کی ایک بڑی جماعت ہے لیکن اس کی بناوٹ میں ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ اس جماعت کا رویہ اقتدار اور اپوزیشن کے دور میں مختلف ہوتا ہے۔ اپوزیشن کے دنوں میں یہ کارکنان کی جماعت ہوتی ہے اور جماعت کے کارکنان ماریں کھاتے ہیں اور احتجاجی جلسوں جلوسوں میں رسوا ہوتے ہیں جبکہ اقتدار کے دنوں میں وہی مخصوص لیڈران سامنے آجاتے ہیں جن میں سے کچھ تو دہائیوں سے جماعت کے سدا بہار وزیر ہیں اور کچھ چہرے اقتدار کا سورج طلوع ہوتے ہی خلا سے نازل ہوتے ہیں اور جماعت کی فرنٹ لائن میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔

اس وقت جبکہ کہ مسلم لیگ ن کی حکومت ہے اور مرکز اور پنجاب میں اقتدار کا بڑا حصہ اسی جماعت کے پاس ہے اور پچھلے دو سال میں کسی بھی سطح پر کارکنان سے رابطہ کرنے اور جماعت کی تنظیم نو کے لیے کوئی ایک بھی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ اب تو حالت یہ ہے کہ جماعت میں بنیادی کارکن کو اچھوت سمجھا جاتا ہے اور پورا نظام ابن الوقت اور موقع پرست لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ آجکل بھی جب حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی اور بیروزگاری عروج پر ہے اور میڈیا سمیت مختلف فورموں پر حکومت پر تنقید ہو رہی ہے تو اپنا قبلہ درست کرنے کی بجائے رونا دھونا شروع کردیا گیا ہے۔

اب وہ تقریریں جو پی ٹی آئی کی پالیسیوں کے خلاف تھیں ان کا رخ پھر مظلومیت کے بیانیہ کی طرف موڑا جارہا ہے اور عمران خان حکومت کے جبر اور جیلوں کے قصے سنا کر ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عجب بات ہے کہ یہ سارے لوگ وہ ہیں جنہوں نے اگر چند دن وی آئی پی جیل دیکھ بھی لی ہے تو بھی اس کا پھل وزارتوں اور مراعات کی صورت میں پالیا ہے اور یہی نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی دہائیوں سے یہی افراد پارلیمنٹ کا حصہ رہے ہیں اور وزارتوں کے مزے بھی لوٹتے رہے ہیں اور ان کی اولادیں ارب پتی ہوگئیں۔ جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ ن کا ورکر اپوزیشن کے دنوں کی سختیوں اور اب اقتدار کی بے حسی کا شکار ہے۔

آج مسلم لیگی ورکر تین سمت سے پس رہا ہے۔ ایک طرف لوگ گلی محلوں میں کارکنان کو مہنگائی اور بے جا ٹیکسوں کے کوسنے دیتے ہیں، دوسرا ان کارکنان کی کسی بھی سطح پر بات نہیں سنی جاتی ہے اور سب سے اہم مسئلہ یہ کہ........

© Daily Urdu (Blogs)