Jahaz, Awam Aur Musheer
آج کل وزیر اعلٰی پنجاب کا جہاز زیر بحث ہے۔ جہاز تو باقی صوبوں کے پاس بھی ہے لیکن وزیر اعلٰی پنجاب کے جہاز پر اس قدر تنقید کی آخر وجہ کیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس لگژری جہاز کی خریداری کی ٹائمنگ درست نہیں تھی اور دوسرا وزیر اعلٰی کی خواتین مشیروں نے اس جہاز کو ناصرف متنازعہ بنادیا ہے بلکہ اپنے آمرانہ طرز عمل سے تنقید کے دائرہ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ عورت کی حکمرانی نمود و نمائش لاتی ہے اور اگر حکمران عورت کی مشیر بھی خواتین ہوں تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔
وزیر اعلٰی پنجاب کا جہاز اس لحاظ سے بھی زیر بحث ہے کہ یہ ایک سپر لگژری جہاز ہے جس کی قیمت گیارہ ارب روپے بتائی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ ایسا جہاز دنیا میں کم ہی کسی ریاست کے سربراہ کے پاس موجود ہے۔ یہ جہاز خریدا بھی ایسے وقت پر گیا ہے جب ملک اور خطہ ایک بڑی جنگ اور دہشت گردی کے شعلوں میں گھرا ہوا تھا اور ملک کے اندر حکمران لوگوں پر بدترین ٹیکسوں اور بجلی و پٹرول کی بے انتہا قیمتوں کا قہر ڈھا رہے تھے اور کفایت شعاری کا درس دے رہے تھے۔ اسی لئے پہلے جہاز کی خریداری کو چھپایا گیا اور حکومت نے اس معاملہ میں خاموشی سادھے رکھی اور جب معاملہ بہت زیادہ تنقید کی زد میں آیا تو وزیر اطلاعات پنجاب عظمہ بخاری نے میڈیا کے سامنے موقف دیا کہ یہ جہاز وزیر اعلٰی پنجاب کے لئے نہیں خریدا گیا ہے بلکہ پنجاب ائر لائنز کے منصوبے کی ایک کڑی ہے۔
یہ بات اس لئے بھی قابل ہضم نہیں تھی کہ انھیں دنوں میں قومی ائر لائنز پی ائی اے کی نجکاری کی گئی تھی۔ اگر حکومت نے جہاز کی کمپنی بنانا تھی تو پھر پی آئی اے کیا برا تھا جو اس کو فروخت کیا گیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر حکومت اسی وقت اس جہاز کی خریداری کو تسلیم کر لیتی اور اس کو وزیر اعلٰی پنجاب کے استعمال کے حوالے سے حقیقت کو مان لیتی تو یہ معاملہ اس قدر طول نہ پکڑتا کہ خود وزیر اعلٰی کو اس کے حوالے سے بات کرنا پڑتی۔
وزیر اعلٰی کے مشیروں سے دوسری غلطی اس وقت ہوئی جب وزیر بلدیات مریم اورنگزیب نے پنجاب اسمبلی کے فورم پر کھڑے ہوکر بڑی رعونت سے کہا تھا کہ خریدا ہے جہاز........
