Iran Jang Jeet Chuka Hai
جنگ میں جیت صرف اسلحہ اور عددی طاقت سے نہیں ہوتی ہے بلکہ کسی بھی قوم کا مورال اور اپنی دھرتی سے کمٹمنٹ ہی جنگوں کے فیصلے کرتی ہے۔ ایران پر امریکہ جیسی سپر پاور نے حملہ کرتے ہوئے یہی سوچا تھا کہ ایران ایک ہی جھٹکے میں زمین بوس ہو جائے گا اور امریکہ کی ہیبت پورے خطے میں سر چڑھ کر بولے گی اور اکثر تجزیہ کاروں کا بھی خیال یہی تھا کہ امریکہ جیسی دنیا کی سب سے بڑی ملٹری طاقت کے سامنے ایران ٹھہر نہیں سکے گا۔
میں نے اپنے پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ اس جنگ نے امریکہ کے خوف کو ناصرف کم کیا ہے بلکہ پہلی دفعہ امریکہ اس جنگ میں تنہا دکھائی دیتا ہے۔ اس وقت تک کی صورتحال یہ ہے کہ وہ امریکہ جو مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے کر رکھے تھے اور تقریباً ہر ملک میں امریکی فوج اور ہوائی اڈے موجود تھے جہاں سے افغانستان، عراق، شام اور لیبیا پر حملے کئے جاتے رہے ہیں۔ یہ امریکی فوجی اڈے بظاہر خطہ میں امن قائم کرنے کے لئے بنائے گئے اور عرب ممالک کا خیال تھا کہ جب کبھی ان پر بیرونی حملہ ہوا تو امریکہ کے یہی فوجی اڈے ان کا تحفظ کریں گے۔
ایران پر حملہ کرکے امریکہ کی طاقت بھرم ٹوٹ چکا ہے کیونکہ اس جنگ میں ایران نے جو چاہا کرکے دکھایا ہے اور خطے میں ناصرف امریکہ کے ایک ایک اڈے اور دفاعی مفادات پر میزائل برسائے ہیں بلکہ اسرائیل کے اندر بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ ایرانی میزائلوں کی بارش میں امریکہ اور اسرائیل کے دفاعی نظام کی اہلیت کم پڑنے لگی ہے جس کی وجہ سے بحرین، قطر، عراق سمیت کویت کے اندر موجود امریکی اڈوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے........
