Zinda Bhaag
شیدا میرا بچپن کا دوست، جس سے دوستی رکھنے پر میں نے اپنے بڑوں سے بہت مار کھائی تھی، سیالکوٹ کی پتلی پتلی گلیاں ہمارے قہقہوں اور زخموں کی شاہد ہیں۔
ہمارے خواب ہمارے ساتھ ہی پل کر جوان ہوئے۔ ہم روز رات گئے کرم دین کے ڈھابے پر ملتے۔ میں نے ڈگری لی پر شیدا میٹرک پر ہی رک گیا، گو وہ مجھ سے کہیں زیادہ ذہین تھا پر اس کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے وسائل نہ تھے۔ ابا نے فٹبال کے کارخانے میں اپنی جوانی گزار دی۔ انہوں نے بہت چاہا کہ میں بھی اس کارخانے کا پرزہ بنوں پر وائٹ کالر جاب ہمیشہ سے میرا خواب۔
کرم دین کے چائے خانے کی اصل رونق چاچا برکت تھا جو اٹلی سے خوب مال پانی بنا کر آٹھ سال قبل لوٹا تھا۔ اس کی حویلی کے کگر سے اونچا، محلے میں دوسرا کوئی گھر نہ تھا۔ چاچا برکت کی ٹشن اور اس کے لڑکوں کی ٹور، ہمارے بچپن و نوعمری کی دلنشین یاد۔ میں یعنی سلمے (سلیم) اور شیدا (رشید) دونوں ہی چاچا سے بہت مرعوب تھے اور ہم نے اپنے آپ سے اٹلی یاترا کا قول لیا ہوا تھا۔ میرے لیے اٹلی خوابوں کی سر زمین پر شیدے کے لیے پناہ گاہ۔
بی کام کے رزلٹ کے بعد میں شہر بھر میں نوکری کے لیے جوتیاں چٹخاتا پھرا پر نوکری کا اونچا نرخ مجھ پھکڑ جیب میں نہ تھا۔ نہ ہی خاندان میں کوئی دھانسو سفارشی سو ڈھاک کے تین پات۔ دور دور تک میرا اور نوکری کا کوئی تال میل نہ تھا۔ میری پیاز روٹی تین چار ٹیوشن سے چل رہی تھی پر میری خواہش، چچا برکت کی حویلی کو مات دیتے بلند قامت کگر جو سیالکوٹ رہتے تو ممکن نہ تھے۔
فارغ اوقات میں شیدا اور میرا دل پسند مشغلہ وہ ویڈیوز دیکھنا تھا جو ہمارے جیسے چھوٹے شہروں کے جوان، ترکیہ، جرمنی اور اٹلی سے آپ لوڈ کیا کرتے تھے۔ ان کے ٹھاٹ دیکھنے والے ہوتے بلکہ شیدے نے مجھے اپنی برادری کے ایک لڑکے، وسیم کی ویڈیو بھی دیکھائی تھی جو لکشمی دیوی کی مہربانیوں کے سبب "چوڑا" کی تہمت سے نجات پا چکا تھا۔ شیدے کو لفظ چوڑے سے دلی نفرت تھی مگر لوگ اسے "شیدا چوڑا" ہی کہنے پر ہی مصر۔ شیدا پاکستان میں نہیں رہنا چاہتا تھا۔ اس کا خواب ایسا جہان، جہاں اسے انسان سمجھا جائے اور اس کی ذات کی تحقیر نہ ہو۔
ہم دونوں ہی شیخ چلی کی طرح منصوبوں کے بلبلے بناتے اور پھوڑتے رہے۔ دونوں کی جیب میں ٹکا نہ دمڑی پر خوابوں پر کس کی قدغن! ایک دن شیدا نے مجھے اطلاع دی کہ ہمارے علاقے کا پراپرٹی ڈیلر چودھری نثار، جس کا اصلی کاروبار، خفیہ طور پر لڑکوں کو باہر بھجوانا تھا، اس نے ڈیل پر سیل لگا رکھی ہے۔ اس سنہری آفر کے باوجود، چودھری نثار سے ہماری ملاقات بے سود رہی کہ اتنے دام ہماری گانٹھ میں نہ تھے۔ البتہ اس کی دکھائی گئیں تصاویر اور وڈیوز اتنی پرکشش کہ ہفتوں ہمارے اعصاب پر مسلط رہیں۔ میں اماں کے سر ہوا اور ممتا اپنے اکلوتے سپوت کی منت ترلے اور بھوک ہڑتال کے آگے ہاری۔ اماں نے........
