menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Zarqa Fatima Ka Raz e Hasti

20 0
24.08.2026

زرقا فاطمہ کا رازِ ہستی

زرقا فاطمہ اردو افسانہ نگاری میں ایک سنجیدہ اور کہنہ مشق نام، جن کے قلم سے نکلنے والی کہانیاں ادبی جرائد اور الیکٹرانک میگزینز میں تواتر کے ساتھ شائع ہوتی رہی ہیں۔ "رازِ ہستی" ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ اپنے پیش لفظ میں مصنفہ لکھتی ہیں کہ "کہانی ہی زندگی ہے اور زندگی خواب سے عبارت ہے"۔ ان کے ہاں عورت اور مرد کے انفرادی دکھوں سے زیادہ ایک انسان اور اس کے وجودی کرب کا احساس نمایاں ملتا ہے۔

مجموعے کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ زرقا فاطمہ کے افسانوں کا کینوس کافی وسیع اور درد مندانہ ہے۔ مجموعی طور پر ان کی تحریروں کو دو اہم موضوعاتی زاویوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

الف) سقوط مشرقی پاکستان اور کیمپوں میں بسے محصورین کی غیر انسانی زندگی۔

مصنفہ نے سقوطِ ڈھاکہ (1971ء) کے ارد گرد وہاں موجود محبِ وطن پاکستانیوں کی مظلومیت اور بعد ازاں بنگلہ دیش کے کیمپوں میں بے یار و مددگار پڑے محبِ وطنوں کی بےکسی اور غیر انسانی حالات کی انتہائی پر درد عکاسی کی ہے۔

افسانہ "گھر سے کیمپ تک": اس کہانی میں بہاری کردار "ملکہ" کے ذریعے ان کی غیرتِ نفس، احساسِ خودداری اور کسمپرسی کے باوجود اخلاقی و روایتی اقدار سے جڑے رہنے کا بیان۔

افسانہ "جدائی" جہاں نا اتفاقی و شقاوت زندگیوں کو تاراج کرتی ہے۔

"ہم کہ ٹھہرے اجنبی"، اس افسانے میں جدائی کا رستا کرب قارئین کو پہروں بے بےکل رکھنے پر قادر۔

ب) دیہی و جاگیردارانہ معاشرت، طبقاتی تفریق اور عورت کا وجود۔

پاکستان کی دیہی اور روہی کی زندگی کی سچی تصویر کشی مصنفہ کے قادر الکلام ہونے کا ثبوت بھی۔ وہ جاگیردارانہ سوچ، غربت اور خصوصاً دیہی عورت کے خوابوں کی ٹوٹ پھوٹ کو نہایت حساسیت کے ساتھ قلمبند کرتی ہیں۔

افسانہ "رُڑک": روہی کے ماحول میں باوی اور سانول کی محبت اور پھر معاشی مجبوریوں اور قرض کے باعث بننے والی بچھڑاؤ کی کہانی ہے۔ "رُڑک" (یعنی خواب کی خلش اور رِستے ہوئے زخم) کے ذریعے مصنفہ نے دکھایا ہے کہ کیسے عورت کی قربانی کو تقدیر مان لیا جاتا ہے۔

افسانہ "دریا اور بریتے": رانی اور اس کے تائے غضنفر کا مکالمہ معاشرتی مصلحتوں اور ایک عورت کے اندرونی وجود کی " آزاد و مکمل زندگی" جینے کی تمنا کے تصادم کو ظاہر کرتا ہے۔

ج) روایتی رشتوں کی عدم آسودگی اور نفسیاتی گرہیں

افسانہ "بانکڑی": طبقاتی فرق کے درمیان محبت اور ناممکن خوابوں کے ابھرنے سے پیدا ہونے والی نفسیاتی کشمکش اور المیے پر مبنی ایک شاہکار کہانی ہے۔

افسانہ "سچائی کا کرب": بچپن کے نفسیاتی زخموں، باپ کی بے حسی اور شادی و طلاق سے متاثرہ بچوں پر پڑنے والے اثرات کا احاطہ کرتا ہے۔

افسانہ "صبحِ کاذب": عورت کے علمی و شعوری درجے اور مردانہ انا (Patriarchal ego) کے تحت اس کے وجود کی نفی کے سیاسی........

© Daily Urdu (Blogs)