Andhi Gawahi
مجھے اور شہلا کو لائبریری میں کچھ زیادہ ہی دیر ہوگئی تھی اور نتیجتاً پوائنٹ مس ہوگیا۔ شہلا تو اپنی گاڑی ہی سے جاتی تھی سو اس نے مجھے سیوک سینٹر پر اتار دیا۔ یہاں سے مجھے منی بس لیکر جوہر چورنگی جانا تھا، جہاں راڈو بلڈنگ میں ہم چار لڑکیاں اپارمنٹ نمبر 36 A شئیر کرتی ہیں۔
میں ماروی لاشاری سنجہورو، جو سانگھڑ کا تعلقہ ہے میڈیسن پڑھنے اس روشنیوں کے شہر کراچی آئی ہوں۔ میں سندھ میڈیکل کالج میں تھرڈ ایئر کی سٹوڈینٹ۔ میں اپنے خاندان کی پہلی لڑکی ہوں جو کسی پروفشینل کالج میں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ میرا یہاں داخلہ ہونے کے بعد گاؤں سے روانگی سے پہلے باباسائیں، جان محمد لاشاری نے میرا نکاح میرے چاچا کے بیٹے دلاور لاشاری سے کر دیا تھا۔ اس نکاح پر ہم دونوں دل و جان سے راضی تھے۔ اس نے دو سال پہلے ایگری کلچر یونیورسٹی سے ڈگری لی تھی اور اب اپنی زمین سے سونا اگا رہا تھا۔ میری ساری کزنز کا خیال تھا کہ ہم دونوں کی جوڑی بہت شاندار ہے۔ لیجیے میں بھی کہاں سے کہاں نکل گئی! کیا کروں میرا پاگل دل چاہتا ہے کہ بس دلاور کا ذکر چلتا رہے۔ گویا باد نو بہار چلے، ذکر یار چلے۔ محبت بھی کیسا دیوانہ بنا دیتی ہے۔
میں سیوک سینٹر کے اسٹاپ پر ویگن کا انتظار کر رہی تھی کہ سگنل لال ہوگیا اور گاڑیوں کا بہتا سمندر رک گیا۔ بیچ بیچ سے کچھ بائیک والے شتابی سے اپنا راستہ بنا رہے تھے۔ میرے بلکل قریب ایک بائیک رکی ہوئی تھی اور اس پر بیٹھا ہوا لڑکا سیل فون پر کسی سے باتیں کر رہا تھا۔ جوں ہی سگنل سبز ہوا کہ ایک دم سے ایک اور بائیک اس لڑکے کے بالکل قریب آ کر رکی۔ اس پر سوار پیچھے والے آدمی نے اس لڑکے سے اس کا سیل فون چھینے کی کوشش کی۔ اُس لڑکے نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور اِس جھٹکے سے وہ لٹیرا گرنے لگا، گرتے گرتے اس نے فائر کر دیا۔ وہ لڑکا تڑپ کر مجھ پر آن گرا۔ اس کے دھکے کی شدت سے میں بھی زمین پر بیٹھتی چلی گئ۔ یہ سب کچھ منٹوں میں ہوگیا۔ اس کا گرم گرم خون میرے کپڑوں کو تر کررہا تھا اور میں ہذیانی انداز میں چیخ رہی تھی، لوگوں کو مدد کے لیے پکار رہی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ اپنی........
