Molana
مولانا، خدا ہمارے دروازے پر روپ بدل بدل کر دستک دیتا ہے۔۔
میں بچوں کو بٹھا کر ماحول دوست اقدامات کے بارے میں بتا رہی تھی، میرے لہجے میں اداسی اور خفگی گھلی ہوئی تھی۔ گفتگو کا آغاز یہاں سے ہوا کہ چھوٹا بیٹا، جس کے او لیول کے آغاز میں ایک نیا مضمون لازمی قرار دیا گیا تھا، یعنی گلوبل پرسپیکٹو، مجھ سے استفسار کر رہا تھا اور قدرے بیزاری کا اظہار کر رہا تھا کہ یہ بوجھ کیوں ڈال دیا گیا۔ میں نے کہا: "بہت دیر کی مہرباں آتے آتے، بیٹا، تم لوگوں کی نسلیں جس مسئلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گی، وہ تمہارا ماحول ہی ہوگا، تو اس کو سمجھنا اور ماحول دوست اقدامات کرنا ازبس ضروری ہے۔ یہی سے نئے کاروبار جنم لیں گے، نئی زندگی، نئی عالمی منڈیاں"۔
بس، گفتگو طویل ہوتی چلی گئی۔ بڑا بیٹا بھی آ کر بیٹھ گیا اور اس کے دوست بھی توجہ سے میری بات سن رہے تھے۔ میں انہیں ترغیب دے رہی تھی کہ اس وقت غیر معمولی اور غیر متوقع بارشوں سے نمٹنے کے لیے شہروں میں پانی چوس کنویں اور تالاب کتنے ضروری ہیں اور یہ کتنے مسائل........
